سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کیخلاف درخواست مسترد کر دی

سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کیخلاف درخواست مسترد کر دی

سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔

درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو ترقی کے بعد گورنمنٹ پریمیئر کالج میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم کالج کے پرنسپل نے بغیر شوکاز نوٹس کے درخواست گزار کی خدمات واپس ڈائریکٹر کالجز کو دے دیں۔ وکیل نے کہا کہ کالج پرنسپل کے پاس تبادلے کا اختیار نہیں تھا۔دوسری طرف، کالج انتظامیہ کے وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار کالج کے لیے مسائل کا باعث بن چکا تھا، کیونکہ وہ دو ماہ تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا اور دوسرے کالج میں بھی 113 دن تک غیر حاضر رہا۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا درخواست گزار نے ڈائریکٹر کالجز میں دوبارہ جوائن کیا تھا، جس پر وکیل نے نفی میں جواب دیا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار ایک برس سے ملازمت سے غیر حاضر تھا اور محکمہ تعلیم نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔سرکاری وکیل نے کہا کہ کالج سربراہ نے بدانتظامی کے الزامات کے تحت درخواست گزار کی خدمات واپس کیں، اور عدالت نے ریمارکس دیے کہ محکمہ تعلیم نے درخواست گزار کے ساتھ نرم رویہ اپنایا اور ایسی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آخرکار، عدالت نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے حق میں فیصلہ سنایا۔