میٹرک کا طالب علم قتل،2ملزم گرفتار

سعد والد اقبال ندیم کیساتھ موٹر سائیکل پر عدالت پیشی کیلئے جارہا تھا،مخالفین نے فائرنگ کر دی 
 مقدمہ درج ،بیٹا کیس میں بری ہوا، اسے ناحق قتل کیا گیا ہے،والد، عبید علی اور نیاز پکڑے گئے 
لاہور(کرائم رپورٹر)ہربنس پورہ کے علاقے میں عدالت پیشی کے لیے جانے والے میٹرک کے طالبعلم کو مخالفین نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، مرکزی ملزم سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ،تفصیلات کے مطابق سعد اپنے والد اقبال ندیم کے ہمراہ موٹر سائیکل پر عدالت پیشی کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں موٹر سائیکل سوار ملزموں نے اس پر فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے، سعد کو 4فائر لگے ، تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا، والد اقبال ندیم نے بتایا کہ میرے بیٹے پر جو مقدمہ درج ہوا تھا اس میں عدالت نے اسکو بری کر دیا تھا،اسے ناحق قتل کیا گیا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک سینئر صحافی ہوں ، آئی جی عبدالکریم اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل ہے کہ مجھے انصاف فراہم کیا جائے ،پولیس کے مطابق سعد قتل کیس میں نامزد ملزم تھا،ایک ماہ قبل رہا ہوا تھا ،ملز موں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا ، لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر سلمان قریشی دیگر عہدیداروں نے صحافی اقبال ندیم کے جواں سال صاحبزادے کو ہربنس پورہ میں صحافی کالونی کے باہر قتل کرنے کی شدید مذمت کی ہے ، صحافی برادری ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزموں کو گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔ لاہور پولیس نے ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت عبید علی اور نیاز کے نام سے ہوئی ہے ابتدائی تفتیش کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سابقہ دشمنی کا نتیجہ ہے مقتول سعد کے والد اقبال ندیم کی مدعیت میں تھانہ ہربنس پورہ میں مقدمہ نمبر 2711/26 درج کیا گیا ہے، جس میں قتل اور دیگر متعلقہ دفعات شامل ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لاہور پولیس تمام شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے اور واقعے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔