ندیم ملک
یہ ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی بدترین ذہنیت اور نظام پر ایک ناقابلِ تردید فردِ جرم ہے۔ یہ جملہ اس جبر کا نمائندہ ہے جو عورت کی سوچ، مرضی اور وجود کو قبائلی روایات، غیرت کے نام اور جھوٹے وقار کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ شیتل کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کی جرا?ت کی۔ وہ فیصلہ جس پر صرف اسے ہی نہیں، اس کے پورے وجود کو موت کی سزا دے دی گئی یہ واقعہ صرف بلوچستان یا کسی ایک علاقے کی داستان نہیں، بلکہ یہ پوری ریاست کے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ جب ایک لڑکی اپنی پسند سے شادی کرنا چاہے، اور جواب میں اسے گولی سے خاموش کر دیا جائے، تو یہ ایک فرد پر نہیں، پورے آئینی، عدالتی اور مذہبی نظام پر حملہ ہوتا ہے پاکستان میں کئی دہائیوں سے "ریاست کے اندر ریاست" کا تصور موجود رہا ہے۔ اس کی بدترین شکل قبائلی جرگہ سسٹم ہے، جو قانونی، آئینی اور مذہبی دائرہ کار سے باہر فیصلے سناتا ہے اور ریاست خاموشی سے ان پر عملدرآمد کی راہ ہموار کرتی ہے جرگہ دراصل انصاف کا لبادہ اوڑھ کر ظلم کا ایک باقاعدہ نظام بن چکا ہے۔ جہاں عورتوں کو "بدل صلح" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، پسند کی شادی کرنے پر قتل کیا جاتا ہے، اور محبت کو قبیلے کی غیرت کے خلاف جرم گردانا جاتا ہے۔ ایسے جرگے جب کسی عورت کے نکاح یا مرضی پر فیصلہ صادر کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ شرعی اصولوں کے بھی سراسر منافی ہے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
پس تم ان (عورتوں) کو نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں جب کہ وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہو جائیں
(سور? البقرہ، آیت 232)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عورت کو نکاح کے معاملے میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس کی رضامندی کے بغیر کوئی نکاح جائز نہیں، نہ شرعاً نہ قانوناً۔ اس کے باوجود قبائلی رسم و رواج اور مردانہ بالادستی کے تحت عورت کی آواز کو دبایا جاتا ہے
احادیث مبارکہ میں بھی نبی کریم ? نے عورت کی رضامندی کو نکاح کے لیے شرط قرار دیا ہے
بیوہ عورت اپنے نکاح کے بارے میں خود سب سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے بھی اس کی اجازت لی جائے۔
( صحیح مسلم:1421)
یہ حدیث ان تمام جرگوں، سرداروں، اور معاشرتی ٹھیکیداروں کے منہ پر جواب ہے جو عورت کو اپنی ملکیت سمجھ کر اس کی زندگی کے فیصلے کرتے ہیں شیتل کی زندگی میں بھی یہی ہوا۔ اس کی پسند کے خلاف فیصلہ ہوا۔ بھائی نے قبیلے، غیرت اور رسم کے نام پر اس کی جان لے لی۔ اور ریاست؟ وہ تماشائی بنی رہی
جب کوئی مرد یا خاندان کسی لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرتا ہے یا پسند کی شادی کرنے پر قتل کرتا ہے تو یہ صرف فوجداری جرم نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے انحراف ہے۔ یہ ظلم دین کی بھی توہین ہے اور قانون کی بھی
پاکستان کا آئین، آرٹیکل 9، ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر ان اصولوں کی دھجیاں قبائلی علاقوں میں روز اڑائی جاتی ہیں اور ریاست ان جرگوں کو تسلیم نہ سہی، برداشت ضرور کرتی ہے شیتل کا بیان "صرف گولی مار سکتے ہیں" دراصل ایک چیخ ہے، جو ریاست سے سوال کرتی ہے: کیا تم اتنے کمزور ہو کہ انصاف فراہم نہیں کر سکتے؟ کیا عورت کے جان و مال، مرضی، خواہش اور محبت پر گولی ہی جواب ہے؟ کیا مذہب، قانون، آئین، عدالت اور انسانیت سب ختم ہو چکے ہیں؟
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ سب کچھ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہم تعلیم کو عام نہیں کریں گے۔ بلوچستان، جنوبی پنجاب اور دیگر قبائلی علاقوں میں تعلیم کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر قبائلی سردار پابندی عائد کرتے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر عورت نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تو وہ سوال اٹھائے گی۔ اور سوال ظلم کے لیے سب سے خطرناک چیز ہوتا ہے۔
نبی کریم نے فرمایا:
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے
(ابن ماجہ:224)
مگر جو ریاست علم کو صرف اشرافیہ کے لیے مخصوص رکھے، وہ عوام کو ظلم میں ڈوبنے سے کیسے بچا سکتی ہے؟ ہمارے تعلیمی ادارے صرف شہری مراکز میں محدود ہیں۔ جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ملک جاتے ہیں تو ریاست خوش ہوتی ہے کہ زرِ مبادلہ آئے گا، لیکن یہ نہیں سوچتی کہ وہ اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو رہی ہے
شیتل جیسے کردار ہمیں جھنجھوڑتے ہیں۔ ان کی موت ایک فرد کی نہیں، ایک نظام کی شکست کا اعلان ہے۔ نبی اکرم ? نے فرمایا:
"جو شخص اپنی جان، مال، دین یا اہلِ خانہ کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید
)سنن ابی داؤد:4772)
شیتل اپنے وجود، اپنی شناخت، اپنی محبت اور اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ماری گئی۔ وہ بھی شہید ہے۔ اس کی شہادت ہمیں جگانے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ ہم جاگنا چاہیں
ریاست کو اب صرف مذمت سے آگے بڑھنا ہوگا اور ان ضروری اقدامات پر عملدرآمد کرنا ہوگا
1جرگہ نظام کو آئینی طور پر غیرقانونی قرار دے کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے
2 غیرت کے نام پر قتل کو ناقابلِ صلح اور ناقابلِ معافی جرم قرار دیا جائے
3 ہر شہری کو نکاح کے شرعی، قانونی اور آئینی حقوق سے باخبر کرنے کے لیے قومی مہم چلائی جائے
4پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جائے
5 مذہبی علماء اور سماجی رہنما اس ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں
ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم شیتل جیسے کرداروں کی خاموش موت پر افسوس کرتے رہیں گے یا ان کے حق میں بولیں گے۔ کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو کل کوئی اور "صرف گولی مار سکتے ہیں" کہہ کر دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور ہم پھر تماشائی بنے رہیں گے۔
بقول جون ایلیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا