قرض اگردرست جگہ استعمال ہو تو معیشت کیلئے نقصان دہ نہیں ہے:وفاقی وزیر خزانہ

قرض اگردرست جگہ استعمال ہو تو معیشت کیلئے نقصان دہ نہیں ہے:وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر قرض درست سمت اور پیداواری شعبوں میں استعمال کیا جائے تو یہ معیشت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ معاشی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے قرضہ جات کے بوجھ میں کمی کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے اور قرضہ برائے جی ڈی پی شرح 75 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گئی ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے یہ خیالات عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ایک مذاکرے کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات کے باعث شرحِ سود میں بھی نمایاں کمی آئی ہے جو 22 فیصد سے زائد سطح سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ چکی ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے پرائمری سرپلس حاصل کر کے مالی نظم و ضبط بحال کیا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح جو ایک وقت میں 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی، اب کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام کامیابیاں سخت فیصلوں اور پالیسی تسلسل کا نتیجہ ہیں۔

وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان گرین پانڈا بانڈ کے ذریعے چینی مالیاتی مارکیٹ میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے ماحول دوست منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا اور مستقل خطرہ ہے، تاہم حالیہ سیلابوں کے دوران پاکستان نے زیادہ تر اپنے وسائل سے صورتحال کا مقابلہ کیا اور عالمی اپیل کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ صرف فنڈز کی کمی نہیں بلکہ مؤثر عملدرآمد اور ادارہ جاتی صلاحیت سازی ہے۔ وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2028 کے بعد اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی اور فری لانسنگ کے شعبے میں غیر معمولی ترقی کے مواقع موجود ہیں، جو مستقبل میں زرِ مبادلہ کے حصول اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔