اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر بات نہیں کرے گا بلکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھارت نے جنگ بندی کے لیے امریکا سے رابطہ کیا تھا، جس پر امریکا نے مجھ سے بات کی اور میں نے واضح کیا کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی کسی تیسرے فریق سے یہ نہیں کہا کہ ہمیں بھارت کے ساتھ بٹھایا جائے۔ البتہ جب نیوٹرل مقام پر بات کرنے کی تجویز سامنے آئی تو پاکستان نے اس پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے ساتھ کسی ایک ایشو پر بات نہیں ہو سکتی، مذاکرات صرف اس وقت ہوں گے جب کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بلاوجہ کی بیان بازی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ابھی کوئی شیڈول طے نہیں ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے مجوزہ بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مزید قریب لانا ہے۔