لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب علی بٹ کی اپنے کمسن بیٹے کیوان علی سے ملاقات سے متعلق دائر رٹ درخواست نمٹا دی۔
عدالت نے والد کو ہدایت کی ہے کہ ملاقات کے انتظامات کی بحالی اور دیگر شکایات کے ازالے کے لیے گارڈین اور اپیلٹ کورٹ سے رجوع کیا جائے۔جسٹس عبہر گل خان نے نابالغ بچے سے ملاقات سے متعلق درخواست پر تحریری حکم جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار والد کی شکایت کا معاملہ پہلے ہی گارڈین اور اپیلٹ کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے ہائیکورٹ نے 7 ستمبر کے گارڈین جج کے حکم کی معطلی کے معاملے میں مداخلت سے گریز کیا۔تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ رجب علی بٹ اپنی تمام شکایات اپیلٹ کورٹ کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ بیٹے سے ملاقات کے انتظامات کی بحالی کے لیے بھی متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، جہاں معاملے کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی کہ والد کی جانب سے دائر درخواست پر قانون کے مطابق غور کیا جائے اور فیصلہ کرتے وقت نابالغ بچے کی فلاح و بہبود اور بہترین مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔
رجب علی بٹ نے 7 ستمبر کے گارڈین جج کے حکم پر عمل درآمد کی استدعا کی تھی۔ درخواست میں 15 ستمبر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کو بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔درخواست گزار کے مطابق وہ اپنے کمسن بیٹے کیوان علی سے ملاقات کی اجازت چاہتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ معاملہ پہلے ہی متعلقہ گارڈین اور اپیلٹ کورٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہے، اس لیے ملاقات اور دیگر متعلقہ معاملات کے لیے انہی عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔عدالت کی جانب سے رٹ درخواست نمٹائے جانے کے بعد اب رجب علی بٹ ملاقات کے انتظامات کی بحالی اور اپنی دیگر شکایات کے لیے متعلقہ اپیلٹ کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔