لاہور: گجر پورہ پولیس نے ٹک ٹاکر خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں اس کے ڈرائیور خرم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر خاتون پر تشدد کیا تھا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کے ویڈیو بیان کی مدد سے مرکزی ملزم کی شناخت کی گئی، جس کے بعد گجر پورہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خرم کو حراست میں لے لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم متاثرہ خاتون کا ڈرائیور تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے حسد اور لالچ کے باعث اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم واقعے کے محرکات اور تشدد سے متعلق تمام پہلوؤں کا تعین تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔گرفتاری کے بعد ملزم خرم کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا گیا ہے، جہاں واقعے کی تفصیلات، مبینہ تشدد میں دیگر افراد کے کردار اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔
متاثرہ خاتون کی انصاف کی اپیل
متاثرہ ٹک ٹاکر خاتون نے واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔ خاتون کے ویڈیو بیان کی بنیاد پر پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی کی۔واقعے کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی شواہد اور تفتیش کے نتائج کی روشنی میں عمل میں لائی جائے گی۔
خواتین پر تشدد ناقابل قبول ہے، ڈی آئی جی آپریشنز
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔پولیس حکام کے مطابق شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر کارروائی جاری رہے گی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔