جنگ رکوانے کی کوشش فیلڈ مارشل ایران پہنچ گئے اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں تناؤ اپنے عروج پر ہے، پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے:دفاعی ماہرین
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر خطے میں جاری کشیدگی اور باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے سرکاری دورے پر تہران پہنچ چکے ہیں۔ فیلڈ مارشل اس اہم دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ دفاعی تعاون، بارڈر مینجمنٹ اور خطے کے مجموعی سکیورٹی معاملات کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔اس دورے کا ایک اہم ترین پہلو ایران اور امریکا کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر ہے۔ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے تاہم اس کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مذاکرات سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے، لیکن توجہ زیادہ تر دوطرفہ تعلقات، روابط اور تعاون کو فروغ دینے پر مرکوز رہے گی۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں آبنائے ہرمز کا مستقبل بھی شامل ہے، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم ایرانی ترجمان کے بیان میں اس دورے کو بنیادی طور پر پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات سے جوڑا گیا ہے۔ دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور زیرِ بحث امور کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر مذاکراتی کوششوں میں پیش رفت کی صورت حال واضح ہے