لاہور(آئی این پی)پاکستان میں پانی کے وسائل میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کے غیر یقینی انداز کے پیش نظر کسانوں کو روایتی سیلابی آبپاشی کے بجائے پانی بچانے والے زیادہ مثر طریقے بتدریج اپنانے کی ضرورت ہے۔سیلابی آبپاشی کو عمومی طور پر پانی کے استعمال کا غیر مثر طریقہ سمجھا جاتا ہے جس کی مجموعی کارکردگی کی شرح 45 فیصد سے بھی کم ہے۔محکمہ آبپاشی پنجاب کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف اریگیشن ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے کہا کہ پاکستانی کسانوں کو راتوں رات سیلابی آبپاشی مکمل طور پر ترک نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں بتدریج زیادہ مثر طریق آبپاشی کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلابی آبپاشی پر ابتدائی لاگت نسبتا کم آتی ہے اور پاکستان میں یہ طریقہ وسیع پیمانے پر رائج ہے۔ تاہم، آبپاشی کا ناقص انتظام ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال، پانی کے بہا کے ضیاع، زمین میں پانی کھڑا ہونے اور مٹی میں نمکیات بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے