تیل بحران نے برطانیہ کو روس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا

تیل بحران نے برطانیہ کو روس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے روسی جیٹ فیول اور ڈیزل کی درآمدات پر پابندیوں میں نرمی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام برطانوی عوام کو بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، برطانوی حکومت نے ایک نئی تجارتی اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت روسی خام تیل سے تیار کیا گیا جیٹ فیول اور ڈیزل، جو تیسرے ممالک، خصوصاً انڈیا میں ریفائن ہونے کے بعد برطانیہ درآمد کیا جائے گا، کو شامل کیا جائے گا۔برطانوی محکمہ تجارت کے مطابق، یہ لائسنس غیر معینہ مدت کیلئے جاری کیا گیا ہے، لیکن اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ حکومت نے بعض روسی پلانٹس سے نکلنے والی مائع قدرتی گیس پر عائد پابندیوں میں بھی عارضی نرمی کی ہے۔وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ دونوں لائسنس محدود مدت اور مخصوص حالات کے لیے جاری کیے گئے ہیں تاکہ نئی پابندیوں پر مرحلہ وار عمل درآمد ہو سکے اور برطانوی صارفین کو شدید مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن رہنما کیمی بیڈنوخ کا الزام ہے کہ برطانیہ روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کے لیے روس کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔یاد رہے کہ روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد، برطانیہ نے روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی تھیں جن میں تیل کی برآمدات اور روسی افراد و کمپنیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور توانائی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔