ایران سے جنگ امریکہ کے 42 طیارے تباہ ، امریکی پارلیمنٹ

   ان میں لڑاکو طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون ، 4 ایف-15ای اسٹرائک ایگل لڑاکو طیارے اور ایک اے-10 تھنڈربولٹ-2 حملہ طیارہ شامل ہیں
 ایرانی ہوائی حملوں میں 228 امریکی فوجی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا،یہ سب کچھ مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں کروڑوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا
اسلام آباد( مانیٹرنگ  ڈیسک)  ایران سے جنگ میں امریکہ کو  بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ امریکہ کے 42 طیارے تباہ ہونے کے متعلق پارلیمنٹ کی رپورٹ میں اہم انکشاف سامنے آ گیا۔28 فروری کو شروع ہونے والی  امریکہ کی فوجی مہم میں مسلسل 40 دنوں تک فضائی، سمندری اور میزائل حملے کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ان میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں۔ اب امریکہ کی پارلیمنٹ میں  ایران جنگ سے متعلق ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف  کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف 40 دنوں تک جاری رہنے والی فوجی مہم کے دوران امریکہ کے مجموعی طور پر 42 طیارے یا تو تباہ ہو گئے یا انہیں بری طرح نقصان پہنچا۔ اس دعوے کے بعد امریکی فوجی طاقت، جنگی حکمت عملی اور مہم کی اصل قیمت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔اس سے پہلے یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ  ایران-امریکہ جنگ کے دوران ایرانی ہوائی حملوں میں 228 امریکی فوجی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔ یہ سب کچھ مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں  کروڑوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ چلایا تھا۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس مہم میں مسلسل 40 دنوں تک فضائی، سمندری اور میزائل حملے کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ان میں لڑاکو طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں۔ ان میں 4 ایف-15ای اسٹرائک ایگل لڑاکو طیارے، ایک ایف-35اے لائٹننگ-2 لڑاکو طیارے اور ایک اے-10 تھنڈربولٹ-2 حملہ طیارہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 7 کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے والے طیارے، ایک ای-3 سنٹری اویکس طیارہ، 2 ایم سی-130جے کمانڈو-2 خصوصی مہم کے طیارے اور ایک ایچ ایچ-60 ڈبلیو جولی گرین-2 ہیلی کاپٹر بھی متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور ایک ایم کیو-4سی ٹرائن ڈرون کے نقصان کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ معلومات نیوز رپورٹس، امریکی محکمہ دفاع اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے بیانوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔