اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2025-26 سے متعلق اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ ایوان بالا میں پیش کر دی، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ سب کا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز نے تنقید کے ساتھ ساتھ تعمیری تجاویز بھی دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے اراکین نے کمیٹی اجلاسوں میں بجٹ کے اہم نکات پر تفصیلی گفتگو کی۔
سفارشات کی جھلکیاں:
سولر پینل پر 18 فیصد ٹیکس کی تجویز مسترد
ہومیوپیتھی آئٹمز، اسٹیشنری، اسٹیل سیکٹر پر مجوزہ ٹیکس مسترد
800 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافے کی مخالفت، 12.5 فیصد برقرار رکھنے کی سفارش
پرنٹ میڈیا اور آئی ٹی سروسز پر ٹیکس نہ بڑھانے کی تجویز
صوبائی دائرہ اختیار کی سروسز پر وفاقی ٹیکس کی مخالفت
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مزید اضافے کی سفارش
کم از کم اجرت کے لیے 2 تجاویز: 40 ہزار اور 50 ہزار روپے
ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس نہ لینے کی تجویز
قانون سازی اور تعاون
سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ کمیٹی نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی، جس سے قرضوں میں کمی اور مالی نظم و ضبط کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کو اپوزیشن کی بھرپور حمایت حاصل رہی اور 7 اجلاسوں میں سفارشات مکمل کی گئیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ بعض اعتراضات کے باوجود تمام سینیٹرز کی تجاویز کو حتمی مسودے میں شامل کیا گیا ہے۔ اسٹاف سے مسودہ شیئرنگ میں ممکنہ غلطی کا اعتراف بھی کیا۔