کراچی میں بانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے خلاف حکومت اور ریاست مخالف نعرے بازی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس دوبارہ کھولتے ہوئے گرفتار پانچ ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
عدالت میں کیس کے سلسلے میں گرفتار ملزمان سید حمید پاشا، محمد تحسین، محمد عمر، مرزا وسیم اور آفاق عالم کو پیش کیا گیا۔ دورانِ سماعت پولیس نے عدالت سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ گرفتار ملزمان کو 23 جولائی کو دوبارہ پیش کیا جائے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں مزید ملزمان کی گرفتاری اور شناخت پریڈ کا عمل مکمل کرنا مقصود ہے، اسی لیے پولیس نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی تھی۔مقدمے میں بانی ایم کیو ایم کے علاوہ ایم کیو ایم کے موجودہ چیئرمین خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی، سابق رکن قومی اسمبلی کنور نوید، سابق میئر کراچی وسیم اختر، قمر منصور اور محمود حسین سمیت دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک ہزار سے بارہ سو نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔مقدمے کے مطابق 12 مئی 2016 کو کراچی میں مزار قائد کے قریب شاہراہ قائدین کو مبینہ طور پر زبردستی بند کیا گیا اور حکومت و ریاست کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق کیس میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، جبکہ ملزمان کے کردار اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔