پاکستان کے ماتھے کا جھومر- بلوچستان

 پروفیسر محمد یونس مغل
 آرمی چیف فیلڈ ماشل جنرل عاصم منیر نے ایک تقریب میں کہا تھا بلوچستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے جھومر دلہن کے زیور کا سب سے اہم جز ہے اور دلہن کی خوبصورتی ہے اسی طرح بلوچستان سے پاکستان کی نا صرف خوبصورتی وابستہ ہے بلکہ بلوچستان ہی پاکستان کا مستقبل ہے.
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جو اپنی ریتلی زمینوں، بلند و بالا پہاڑوں، دلکش وادیوں، معدنی وسائل، اور قدیم ثقافت کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے۔مجھے کہنے دیجئے بلوچستان پاکستان کا دل ہے دل صحیح کام کرے گا تو پورا پاکستان صحیح کام کرے گا بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے یہ وہ خطہ ہے جس کے پہاڑ سونا اگلتے ہیں سمندر موتی دیتا ہے اور زمین گیس اور معدنیات سے بھری ہوئی ہے۔
صوبے میں 8 ڈویژن اور 36 اضلاع ہیں۔105تحصیلیں اور 58 سب تحصیلیں ہیں۔بلوچستان کا کل رقبہ تقریباً 347,190 سکوئر کلومیٹر ہے، جو پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد بنتا ہے۔2023ء کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی کل آبادی تقریباً 1.48 ملین (1 کروڑ 48 لاکھ 90 ہزار) ہے۔
بلوچستان شروع سے ہی کئی مسائل کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی میں بھی بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔اگر ہم تعلیم کی بات کریں تو صورتحال تشویشناک ہیبلوچستان کے پرائمری اسکولوں میں طلبہ کی کل تعداد تقریباً 8,29,859 ہے۔ مڈل اسکولزمیں 2,45,663 ہائی اسکولزمیں 1,20,968 انٹرمیڈیٹ کالجزمیں 2,99,239                  اورڈگری کالجزمیں 1,66,541  ہے۔
بلوچستان میں اس وقت 11 سرکاری یونیورسٹیاں قائم ہیں جبکہ 50 سے زائد نجی (پرائیویٹ) یونیورسٹیاں بھی تعلیم کے میدان میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔یونیورسٹی آف بلوچستان (UOB): یہاں تقریباً 14,000 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS): یہاں تقریباً 9,197 طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بلوچستان میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی درست تعداد حاصل نہیں ہو سکی۔البتہ ہائر ایجوکیشن  کمیشن کی رپورٹس کے مطابق بلوچستان کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ کی  کل تعداد:  480ہے جن میں  سیخواتین:  130اورمرد: 350 ہیں یہ اعداد و شمار صرف فارغ التحصیل طلبہ کے حوالے سے ہیں، نہ کہ کل موجودہ طلبہ کے۔
اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں شرحِ خواندگی پاکستان کے باقی صوبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہاں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور تعلیم کی یہ کمی صوبے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔جہاں سکول ہیں وہاں اساتذہ غیر خاضر ہیں اور تعلیمی معیار بہت پست ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اسکولوں اور کالجوں کی تعمیر کی جائے تاکہ ہر طالب علم کو اپنے علاقے میں تعلیم میسر ہو سکے۔نصاب کو مقامی زبانوں کے امتزاج کے ساتھ جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ بچوں کو تعلیم زیادہ مؤثر طریقے سے سمجھ میں آئے۔اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط مانیٹرنگ سسٹم وضع کیا جائے۔
بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں اپنی قابلیت دکھانے کے مواقع کم میسر آتے ہیں۔چند سال پہلے تقریباً دس طلبہ بلوچستان سے ہمارے پاس بی کام کرنیکے لیے آئے۔ میں نے قریب سے دیکھا کہ یہ سب نہ صرف محنتی تھے بلکہ اپنے اساتذہ کی عزت کرنے والے اور مقامی طلبہ و طالبات سے کہیں زیادہ ذہین بھی تھے۔ان میں  صفی اللہ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس نے کوئٹہ ٹیکنیکل بورڈ میں ٹاپ کیا تھا۔ وہ نہ صرف بہترین مقرر تھا بلکہ غیر معمولی ذہانت اور خود اعتمادی کا حامل بھی تھا۔وہ دس کے دس طلبہ پہلی ہی کوشش میں بغیر کسی سپلی کے کامیاب ہوئے اور اچھے نمبروں کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس بلوچستان چلے گئے۔آج بھی ان میں سے کچھ طالب علم میرے ساتھ رابطے میں ہیں۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زندگی میں مثالی کامیابیاں عطا فرمائے۔
 جہاں تک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا تعلق ہے۔تازہ ترین دستیاب معلومات کے مطابق بلوچستان میں اس وقت 296 ہسپتال موجود ہیں، جن میں سرکاری اور نجی دونوں ادارے شامل ہیں۔نمایاں ہسپتالوں میں،سول ہسپتال،شیخ زید ہسپتال،بولان میڈیکل کالج ہسپتال۔گوادرمیں پاک-چائنا فرینڈشپ ہسپتال جی ڈی اے ہسپتال،سول ہسپتال  اس کے اعلاوہ حب، اواران، پنجگور، واشک اور دیگر شہروں میں بھی ضلعی سطح کے ہسپتال موجود ہیں۔
بلوچستان کے ہسپتالوں میں کئی بنیادی اور سنگین مسائل پائے جاتے ہیں صوبے کے اکثر ہسپتال جدید طبی مشینری جیسے ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ڈائیلاسز مشینیں اور دیگر جدید  آلات سے محروم ہیں۔کئی اضلاع کے ہسپتال بنیادی طبی سہولتوں تک سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو علاج کے لیے صوبے سے باہر جانا پڑتا ہے۔ماہر ڈاکٹرز، سرجنز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو مناسب اور بروقت علاج نہیں مل پاتا۔صحت کے شعبے میں جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے، وہ اکثر ناکافی ثابت ہوتا ہے اور جو وسائل دستیاب ہوتے ہیں وہ بھی وقت پر یا صحیح جگہ استعمال نہیں کیے جاتے۔بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں فنڈز کے غلط استعمال اور بدعنوانی (کرپشن) کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اکثر ہسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت ہوتی ہے۔اس صورتحال کے باعث مریضوں کو بازار سے مہنگی دوائیاں خریدنی پڑتی ہیں، جو غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے ایک بڑی پریشانی اور بوجھ بن جاتی ہے۔بلوچستان کے اسپتالوں کی حالتِ زاربلوچستان کے اکثر سرکاری اسپتالوں کی صورتحال نہایت ابتر ہے۔اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام موجود نہیں۔میڈیکل ویسٹ ڈسپوزل کا کوئی منظم نظام نہیں،بیشتر اسپتال پرانے اور خستہ حال عمارتوں پر مشتمل ہیں۔آپریشن تھیٹرز، ایمرجنسی وارڈز اور دیگر سہولیات انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے مریض اسپتالوں تک بروقت پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔اسپتالوں میں انتظامی بدحالی کے باعث مریضوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے اضافی فنڈز فراہم کریں۔ جدید مشینری اور آلات (ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ڈائیلاسز، لیب ٹیسٹ مشینیں وغیرہ) مہیا کریں۔ اسپتالوں میں ایمبولینس سروس کو فعال اور قابلِ اعتماد بنایا جائے تاکہ مریض بروقت اسپتال تک پہنچ سکیں۔موجودہ طبی آلات (ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ڈائیلاسز وغیرہ) کی مرمت اور اپ گریڈیشن کے لیے الگ فنڈز مختص کیے جائیں۔دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں چھوٹے مگر فعال بنیادی مراکز صحت قائم کیے جائیں تاکہ مریضوں کو مقامی سطح پر علاج میسر ہو۔اسپتالوں کی صفائی ستھرائی کے لیے پروفیشنل صفائی عملہ بھرتی کیا جائے تاکہ مریضوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول مل سکے۔سفارش اور رشوت کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے سخت نگرانی اور عملی کارروائیاں کی جائیں۔
دیگر اہم مسائل میں صاف پانی، بجلی، گیس اور سڑکوں کی شدید کمی ہے۔ نوجوانوں کے لئے روزگارکے موقعے بہت محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا نوجوان غلط ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ قدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو پورا پورا حق دیا جائے۔ گیس، معدنیات اور وسائل سے مقامی لوگوں اور صوبے کو اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے۔ بلوچستان کی گیس پورے پاکستان کو ترقی اور روشنی دے رہی ہے، مگر صوبے کے کئی علاقے آج بھی اندھیرے میں ہیں۔صوبے کو انتہا پسندی، دہشت گردی، مسلح جھڑپوں اور لاقانونیت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بیرونی مداخلت کو ہر صورت روکنا ہوگا۔تربیت یافتہ اور مؤثر سیکیورٹی فورسز کے ذریعے امن قائم کیا جا سکتا ہے۔بدقسمتی سے مقامی قیادت اکثر کمزور اور کرپشن میں ملوث نظر آتی ہے۔عوام اور مختلف قومیتوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ان مسائل کا حل مکالمہ، سیاسی مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔بلدیاتی نظام کو فوری طور پر فعال کیا جائے-مقامی صنعتوں، معدنیات، ماہی گیری اور زراعت کو ترقی دے کر ہم بلوچ عوام کی زندگی میں خوشحالی اور روشنی واپس لا سکتے ہیں۔میری نظر میں بلوچستان کے مسائل کا ہر پہلو تعلیمی انقلاب سے جڑا ہے۔ اگر ہر گاؤں اور ہر بستی میں اسکول اور سیکھنے کے ادارے قائم کیے جائیں، اور عوام کو شعور دیا جائے تو صوبے کے حالات بدل سکتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ بنیادی سہولتوں کی فراہمی—پانی، بجلی، سڑک اور صحت کے منصوبے—ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔مسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔روزگار کے مقامی مواقع پیدا ہوں۔صنعتوں، زراعت اور ماہی گیری کو فروغ دیا جائے۔ساحلی پٹی کے وسائل سے مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جائے۔  (جاری ہے)