بیوروکریسی کے ماتھے کا جھومر

ڈاکٹر جاوید ملک
بعض شخصیات عہدوں کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ عہدے اْن کی وجہ سے معتبر ٹھہرتے ہیں۔وہ جہاں قدم رکھتی ہیں وہاں صرف فائلیں نہیں چلتی خواب سانس لینے لگتے ہیں ، ادارے جاگ اٹھتے ہیں اور خدمت ایک نئی تعبیر اختیار کر لیتی ہے۔ایسی ہی شخصیات میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر احسان بھٹہ کا ہے جنہوں نے اپنی انتظامی بصیرت ، انسان دوستی اور عملی قیادت سے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو تو سرکاری ادارے بھی رحمت کے مراکز بن سکتے ہیں۔مرکز تجلیات حضرت داتا گنج بخش رح کے نام پر بننے والا داتا دربار اسپتال کو دوبارہ محکمہ اوقاف کے دائرہ اختیار میں واپس لانا بظاہر ایک انتظامی فیصلہ تھا مگر حقیقت میں یہ ایک ایسے خواب کی تعبیر ہے جس کے پیچھے عوامی خدمت ، بہتر طبی سہولیات اور ادارہ جاتی وقار کی بحالی کا جذبہ کارفرما تھا۔یہ فیصلہ صرف ایک اسپتال کی منتقلی نہیں یہ اس سوچ کی فتح ہے کہ عوامی اداروں کو ان کے اصل مقصد یعنی انسانیت کی خدمت سے جوڑا جائے۔اس کا کریڈٹ بلاشبہ دختر پاکستان کو جاتا ہے۔انکی لازوال قیادت نے صرف اقتدار نہیں سنبھالا بلکہ وقت کی دھڑکنوں کو نء سمت عطا کی ہے۔بی بی صاحبہ مریم نواز  کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے محض نعروں پر اکتفا نہیں کیا-ان کے طرز حکمرانی میں متحرک سوچ ، جدید ویڑن اور عوامی مسائل کے  فوری حل کی جھلک نمایاں دیکھاء دیتی ہے۔
وہ پنجاب کو صرف ایک اکاء تک محدود رکھنے کے بجائے ترقی ، سہولت اور امید کے ایسے خواب سے تعبیر کرنا چاہتی ہیں جہاں عام آدمی خود کو ریاست کے قریب محسوس کرے۔اسی لئے انہوں نے خصوصی طور پر روحانیت کے مرکز داتا دربار سے منسلک داتا دربار اسپتال پر خصوصی شفقت فرماتے ہوئے اسے واپس محکمہ اوقاف کو سونپ کر حضور داتا سرکار کے میراث اور نام کی لاج رکھی ہے۔میڈم وزیراعلی پنجاب نے ثابت کیا ہے  ادارے صرف عمارتوں سے نہیں چلتے اْنہیں ویڑن ، قیادت اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا عملی مظاہرہ سپر سی ایم کی سپر ٹیم کے سپر سیکریٹری اوقاف  ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کر دکھایا ہے۔ کہتے ہیں کچھ لوگ وقت کے دھارے کے ساتھ بہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ وقت کا رخ بدل دیتے ہیں۔ڈاکٹر احسان بھٹہ اْنہی لوگوں میں شامل ہیں جو محکموں کو محض چلانے نہیں ، زندہ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔وہ جہاں جاتے ہیں وہاں خاموش راہداریوں میں زندگی دوڑنے لگتی ہے ، زنگ آلود نظام میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور مایوسی کی دیواروں پر امید کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔بیوروکریسی کو اکثر سرد مہری ، سست روی اور بے حسی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن ڈاکٹر احسان بھٹہ جیسے افسر اس تصور کو بدل دیتے ہیں۔وہ فائلوں کے نہیں ، انسانوں کے افسر دکھائی دیتے ہیں۔ان کے فیصلوں میں صرف قانون کی سختی نہیں ، انسانیت کی حرارت بھی محسوس ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں اْن کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔داتا دربار اسپتال کی بہتری کے لیے اْن کی کاوشیں محض انتظامی اقدامات تک محدود نہیں رہیں ، انہوں نے اس ادارے کو ایک جدید ، باوقار اور انسان دوست طبی مرکز بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔میڈیکل اور بچوں کے وارڈز کی تزئین و آرائش ، طبی سہولیات میں بہتری ، مریض دوست ماحول اور صحت کے نظام میں جدت ، اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر احسان بھٹہ محض عہدہ نہیں نبھا رہے ، وہ ایک مشن لے کر چل رہے ہیں۔ایک اچھا منتظم وہ نہیں جو صرف احکامات جاری کرے ، بہترین ناظم وہ ہوتا ہے جو ادارے کے ہر فرد میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرے۔ڈاکٹر احسان بھٹہ کی قیادت کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ وہ ماتحت عملے کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔