اب کوئی ملک تنہا اپنی حفاظت نہیں کرسکتا، جاپان کی امن پسند پالیسی میں تبدیلی

اب کوئی ملک تنہا اپنی حفاظت نہیں کرسکتا، جاپان کی امن پسند پالیسی میں تبدیلی

سانائے تاکائیچی کی کابینہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے جاپان کے امن پسند آئین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے جنگی طیاروں سمیت مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندی میں نرمی کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد اب جاپان کی جانب سے لڑاکا طیارے، میزائل اور جنگی بحری جہاز جیسے جدید دفاعی آلات کی برآمد ممکن ہو سکے گی۔ جاپانی اخبارات کے مطابق یہ ہتھیار مستقبل میں آسٹریلیا جیسے ممالک کو فراہم کیے جا سکتے ہیں، جن کے ساتھ جاپان پہلے ہی مشترکہ دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔سانائے تاکائیچی نے ایک بیان میں کہا کہ اس تبدیلی کے بعد اصولی طور پر تمام دفاعی آلات کی منتقلی ممکن ہو جائے گی، تاہم ان کا استعمال صرف ان ممالک تک محدود ہوگا جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق انہیں استعمال کرنے کے پابند ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی سیکیورٹی صورتحال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے، اور کوئی بھی ملک اکیلا اپنے دفاع کو یقینی نہیں بنا سکتا۔رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت کم از کم 17 ممالک جاپانی ساختہ دفاعی آلات خریدنے کے اہل ہوں گے، جبکہ دو طرفہ معاہدوں کی صورت میں اس فہرست میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔