واسا جنریٹرز سے ڈیزل چوری

 جنریٹرز کے پارٹس بھی فروخت کئے جانے کا انکشاف ،مانیٹرنگ کیلئے کبھی کوئی میکنزم ہی نہیں 
لاہور ( کرائم رپورٹر )واسا کے جنریٹرز سے مبینہ طور پر ڈیزل چوری ہونے کا انکشاف ہوا، واسا عملہ ساز باز کرکے واسا کے جنریٹرز سے ڈیزل چوری کرنے میں ملوث نکلا، جنریٹرز کے پارٹس بھی فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، واسا کے 20 سے زائد ڈسپوزل و لفٹ سٹیشن پر نصب شدہ جنریٹرز میں ہیر پھیر کی گئی، واسا انتظامیہ نے جنریٹرز کی مانیٹرنگ کے لیے کبھی کوئی میکنزم ہی نہیں بنایا، واسا کا عملہ مینوئل رجسٹر پر ہی جنریٹرز کے استعمال کی انٹری کر دیتا ہے، جنریٹرز کے استعمال سے متعلق چیکنگ کے لیے واسا کا کوئی ڈیجیٹل سسٹم موجود نہیں، واسا نے ماضی میں جنریٹرز کی چیکنگ کا سسٹم ڈیجیٹلائزڈ کرنے کے لیے پی آئی ٹی بی سے رابطہ کیا مگر واسا انتظامیہ تاحال پی آئی ٹی بی کے ساتھ حتمی پلان وضع نہ کرسکی، واسا کی مختلف مشینری اور جنریٹرز ایک سال میں 70 کروڑ 80 لاکھ کا فیوئل استعمال کرنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ آڈیٹر کی جانب سے مبینہ طور پر فیول کے استعمال پر اعتراضات اٹھائے گئے، واسا انتظامیہ نے ایک بار پھر جنریٹرز کی چیکنگ کا نظام وضع کرنے کا فیصلہ کر لیا، واسا لاہور میں جنریٹرز مانیٹرنگ سسٹم کے لیے کمپنیوں سے تفصیلات طلب کر لی گئیں۔