محمد باقر جاوا
فارما سوٹیکل کمپنیاں پاکستان میں صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہیں مگر بدقسمتی سے یہ شعبہ کئی دہائیوں سے ایسے مسائل کا شکار ہے جنہوں نے نہ صرف ادویات کی پیداوار اور فراہمی کو متاثر کیا بلکہ عام شہری کی صحت اور زندگی پر بھی براہِ راست اثر ڈالا۔ عالمی سطح پر فارماسوٹیکل انڈسٹری جدید تحقیق، شفاف پالیسیوں اور مضبوط ریگولیٹری نظام کے تحت ترقی کر رہی ہے لیکن پاکستان میں یہ شعبہ مسلسل غیر یقینی صورتحال، پالیسیوں میں عدم تسلسل، درآمدی مشکلات، خام مال کی کمی، ڈالر کی بڑھتی قیمت اور حکومتی عدم توجہ کے باعث زوال کا شکار ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے بلکہ ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، مارکیٹ میں قلت اور مریضوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی صحت کا نظام کمزور ہے، فارماسوٹیکل کمپنیوں کے مسائل مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ ہے۔ پاکستان کی 95 فیصد ادویات کی تیاری درآمدی خام مال پر انحصار کرتی ہے اور جب بھی ڈالر مہنگا ہوتا ہے، خام مال کی قیمت فوراً بڑھ جاتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی قیمتوں میں بروقت اضافہ نہیں کرتی۔ نجس کی وجہ سے کمپنیاں مالی نقصان سے بچنے کے لیے پیداوار کم کر دیتی ہیں یا بند کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں درجنوں اہم اور بنیادی ادویات مارکیٹ سے غائب رہیں جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب حکومت اکثر قیمتوں میں اضافہ روکنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ عوام پر بوجھ نہ بڑھیلیکن اس کا نقصان مجموعی صحت کے نظام کو ہوتا ہے۔
پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب کبھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو فارماسوٹیکل سیکٹر سے متعلق پالیسیوں میں نئی تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں۔ ایک حکومت قیمتوں میں نرمی کا اعلان کرتی ہے تو دوسری حکومت اسی فیصلے کو واپس لے لیتی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول نے سرمایہ کاروں کو دور کر دیا ہے اور پاکستان کی فارما انڈسٹری جدید تحقیق اور نئی ادویات کی تیاری میں پیچھے رہ گئی ہے۔ عالمی فارما کمپنیاں اپنی تحقیق پر کھربوں روپے خرچ کرتی ہیں جبکہ پاکستان میں تحقیق کا تصور ہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں کمپنیاں صرف وہی ادویات بناتی ہیں جن کے خام مال تک انہیں رسائی ہو۔ نئی، مؤثر اور بہتر ادویات کی تیاری کے لیے کوئی پالیسی یا عملی منصوبہ موجود نہیں۔۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی بھی اکثر تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ پاکستان میں ادویات کی رجسٹریشن ایک طویل، پیچیدہ اور سست عمل ہے۔ بعض اوقات کسی نئی دوا کو رجسٹر ہونے میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہی عمل چند مہینوں میں مکمل کیا جاتا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے نہ صرف مریض جدید اور مؤثر ادویات سے محروم رہتے ہیں بلکہ کمپنیاں بھی نئی مصنوعات بازار میں لانے میں سست روی کا شکار رہتی ہیں۔ اسی طرح ادویات کی قیمتوں کے تعین کا نظام بھی غیر واضح اور غیر شفاف ہے۔ کمپنیاں بارہا شکایت کرتی ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں کئی مہینوں تک زیر التوا رہتی ہیں جبکہ خام مال کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہوتی ہیں۔اسمگلنگ اور جعلی ادویات کا پھیلاؤ بھی فارماسوٹیکل کمپنیوں کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ پاکستان میں جعلی ادویات کی مارکیٹ کئی ارب روپے کی ہے جس سے نہ صرف مریضوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ اصل کمپنیوں کی ساکھ بھی خراب ہوتی ہے۔ اصل مانگ اور سپلائی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور مارکیٹ میں غیر معیاری ادویات کے آگے معیاری ادویات کا دب جانا ایک عام مسئلہ ہے۔ حکومت اس جانب مناسب توجہ نہیں دیتی اور جعلی ادویات بنانے والوں کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔فارماسوٹیکل کمپنیوں کا ایک اور بڑا مسئلہ ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔ پاکستان میں ادویات پر جنرل سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹیز، انکم ٹیکس اور دیگر کئی ٹیکس لاگو ہیں۔ حکومتی سطح پر وقتاً فوقتاً ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جس سے پیداواری لاگت میں شدید اضافہ ہوتا ہے۔ اگر عوام کو سستی ادویات فراہم کرنی ہیں تو حکومت کو ٹیکس پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ادویات کو ٹیکس فری رکھا جاتا ہے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی سہولت سستے داموں مل سکے۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی ایک الگ مسئلہ ہے۔ فارما انڈسٹری ایک توانائی پر مبنی انڈسٹری ہے جہاں درجہ حرارت، نمی اور دوسرے تکنیکی تقاضے بہت اہم ہوتے ہیں۔ جب توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کمپنیوں کے لیے پیداواری اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ کمپنیاں تو اپنی فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اس شعبے کے لیے کوئی خصوصی سبسڈی یا ریلیف نہیں دیا جاتا حالانکہ یہ بنیادی ضرورت کا شعبہ ہے۔کوالٹی کنٹرول اور عالمی معیار پر پورا اترنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پاکستانی کمپنیاں اس میں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک طرف درآمدی مشینری مہنگی ہے، دوسری طرف حکومت کی جانب سے کوئی سہولت یا قرضہ اسکیم موجود نہیں۔ نتیجتاً نئی ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے ہماری ادویات عالمی مقابلے میں کمزور پڑ جاتی ہیں اور پاکستان عالمی فارما مارکیٹ میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتا۔ ہم آج بھی زیادہ تر روایتی ادویات تک محدود ہیں جبکہ دنیا جدید بایولوجیکل ڈرگز، جین تھراپی اور دیگر جدید طریقوں کی طرف جا رہی ہے۔۔ادویات کی برآمد کا کمزور نظام بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان میں تیار ہونے والی ادویات کئی ممالک میں مقبول ہو سکتی ہیں، لیکن کوالٹی اور سرٹیفیکیشن کے مسائل کی وجہ سے عالمی منڈی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ اگر حکومت اس شعبے میں اصلاحات کرے، معیار بہتر بنائے اور کمپنیوں کو عالمی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے میں مدد دے تو یہ شعبہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ لا سکتا ہے۔پاکستان کی فارما سوٹیکل کمپنیاں جن مسائل کا شکار ہیں وہ صرف انڈسٹری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے صحت کے نظام کا بحران ہیں۔ اگر خام مال کی قیمتیں بڑھتی رہیں، پالیسیوں میں غیر یقینی برقرار رہی، ریگولیٹری نظام سست رفتار رہا، ٹیکس بڑھتے رہے اور جعلی ادویات کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو آنے والے برسوں میں ادویات کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور بہت سی ضروری ادویات مارکیٹ سے ناپید ہو جائیں گی۔ حکومت کو فوری طور پر اس شعبے کو قومی ترجیح قرار دینا چاہیے۔ پالیسیوں میں تسلسل، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی اصلاحات، ریسرچ میں سرمایہ کاری، ٹیکسوں میں کمی، جعلی ادویات کے خلاف سخت کارروائی اور کمپنیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا نہ صرف اس انڈسٹری کو بچا سکتا ہے بلکہ پاکستان کے کروڑوں مریضوں کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی ادارے، صنعتکار اور معاشرہ مل کر سوچے کہ فارما انڈسٹری کو کیسے مضبوط بنایا جائے، کیونکہ ایک مضبوط فارما انڈسٹری ہی مضبوط صحت کے نظام کی ضمانت ہے۔