خواتین تحریک اور درپیش صورتحال

آئمہ محمود

پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب ملک کی سماجی ، ثقافتی اور معاشی صورتحال میں گذشتہ چند دہائیوں میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔جن میں سے ایک اہم تبدیلی خواتین کی ایک بڑی تعداد کا ورک فورس کا حصہ بنانا ہے۔ بے پناہ مشکلات اور مسائل کے باوجود پاکستانی خواتین نے بحیثیت عورت اور ورکر قابل تحسین کامیابیاں حاصل کی ہیں جو نئی نسل کے لیے تعلیم ، روزگار، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی میں شمولیت کا ذریعہ بنیں گی۔
پاکستان میں استحصال، صنفی تفریق کے خلاف اور خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے عورتوں کی تحریک لازوال جدوجہد کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ان کامیابیوں کا ذکر کرنے سے پہلے ہم اگر پاکستان میں خواتین کو درپیش صنفی ، سیاسی اور معاشرتی مسائل کا ایک مختصر جائزہ لیں تو ہمیں اندازاہ ہو گا کہ کس طرح پیدائش سے لے کر لہد تک زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو پدرشاہی سوچ ، صنفی تفریق ، مذہب اور رسم و رواج کے نام پرتعصاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تعلیم ، روزگاراور ا?مدورفت پر پابندیوں کے باعث خواتین چاردیواری میں بندہو کر رہ جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروکار لانے کی بجائے صرف گھریلوذمہ داریوں کو نبھانے پر مجبو رکر دی جاتی ہیںاور جو صاحبان یہ دعوی کرتے ہیں کہ خواتین گھروں میںہی محفوظ ہیں وہ کمیشن برائے انسانی حقوق کی اس رپوٹ کا کیا جواب دیں گے کہ پاکستان میں 90فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔
 گھریلو تشدد، عزت کے نام پر قتل ،  جبری اور کم عمر کی شادی ،تیزاب گردی ،جنسی ہراسگی جیسے سنگین جرائم کا شکا ر ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ناانصافی اور تعلیم سے محرومی انھیں سستی اور جبری مشقت جیسے مسائل سے بھی د وچار کر دیتی ہے۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کے حوالے سے پاکستان دنیا کے خطرناک ممالک میں سرفہرست ہے۔صنفی برابری میں پاکستان 146 ممالک کی فہرست میں 145 نمبر پر ہے۔خواتین کے خلاف جرائم میں سزائیں پانے والوں کی شرح ایک فیصد سے کم ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ میںبڑی تعداد مردوں کی ہے جو اکثر خواتین  کے خلاف جرائم میں خواتین کو ہی مورد الزام ٹھراتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 24فیصد خواتین لیبر فورس کا حصہ ہیں جو کہ دیگر ایشیا ملکوں کے مقابلے میں کم ہے کیونکہ کام کی جگہ پرمحنت کش خواتین میںتنظیم سازی کا فقدان ،12سے 14گھنٹے کے اوقات کار ،کم معاوضہ ، ہیلتھ اینڈ سیفٹی سے محرومی انھیں لیبر فورس کا حصہ نہیں بننے دیتے ہیں۔
 2010 میں کام کی جگہ پر ہراسگی کے خلاف قانون سازی کے باوجود حالات میں کوئی قابل ذکر بہتر ی نہیں آئی کیونکہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔روزمرہ زندگی میںبھی عورتوں کوذہنی اور جسمانی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے مردوں کے مقابل میں روزگار کے محدود مواقعے،ا?مدورفت کے مسائل اور مستقل ملازمت نہ ہونا ، خواتین کی معاشی خودانحصاری میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔  
ان نامسائد حالات میںبھی گزشتہ چار دہائیوں میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ا?گاہی کے لیےwomen activist اور سماجی تنظیموں  نے سرگرم کردار ادا کیا ہے۔خواتین تنظیموں کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کی پہچان اور تحفظ کے لیے قانون سازی  پر توجہ دی گئی۔ خواتین کی اسمبلیوں میں نمائندگی، ویمن پروٹیکشن بل اور کام کی جگہ پر ہراسگی کے خلاف قانون اسی جدوجہد کا ثمر ہیں بحیثیت ورکر سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ، خواتین کو زچگی کی چھٹیوں کے حوالے سے the maternity and paternity leave act 2020بھی قابل ذکر قوانین ہیں لیکن قانون سے لاعلمی اور اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ قانون سازی محنت کش خواتین کو  خاطر خواہ تحفظ فراہم نہیں کر سکے۔محنت کشوں کی تنظیمیں ،ٹریڈ یونین بھی اس حوالے سے موثر کردار ادا نہیں کر پائے کیونکہ ملک میں صرف تین فیصد مزدور ٹریڈ یونین کے تحت منظم ہیں اور اس میں خواتین کی تعداد ایک فیصد سے کم ہے۔قوانین محنت صرف رسمی شعبے پر لاگو ہوتے ہیں جب کہ خواتین ورکرز کی اکثریت غیر رسمی شعبے سے منسلک ہے جس میں ہوم بیسڈ اور زرعی مزدور شامل ہیں ان کی تعداد 80فیصد ہے۔غیر رسمی شعبے کی محنت کش خواتین دوہرے جبر کا شکار ہیں کام کی جگہ پر ہراسگی،طویل اوقات کار ، معاوضہ کی عدم ادائیگی کے علاوہ یہ محنت کش خواتین حکومتی اعدادوشمارسے بھی غائب ہیں۔ ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود ان کو قوانین محنت کے تحت کوئی سہولت حاصل نہیں۔ان تمام چلنجیز کے ساتھ خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ تعلیم ، صحت، میڈیا،بزنس ، سیاست اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین سرگرم نظر آتی ہیں۔نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اور آسکر جیتنے والی شرمین عبید دنیا میں پاکستان کی پہچان بنی۔ ویمن چیمبر آف کامرس، بزنس ویمن کومواقعے فراہم کرتے ہوئے معاشی خودمختاری اور صنفی برابری کے رستے پر گامزن ہیںلیکن  محنت کش طبقے کی خواتین کی زندگیوں میں بہتر ی لانے کے لیے ہمیں آگاہی اور قانون سازی کے فروغ کے علاوہ امتیازی رویوں کے خاتمے،تعلیم کی کمی،دقیانوسی رسم ورواج اور غیر منصفانہ معاشی نظام کے خاتمے کے لیے دور رس اقدامات کرنے کے لیے مشتر کہ حکمت عملی  اپنانے پر توجہ دیناہوگی اور اس کا آغازلڑکیوں کی لازمی تعلیم،تعلیمی نصاب میں تبدیلی ،خواتین کے لیے فنی تربیت کے پروگرام،صحت کی سہولیات ،لیگل ریفارم ، آگاہی مہم ،ویمن شیلٹر، روزگار کے مواقعے، کام کی جگہ پر تحفظ ، آمدورفت کے محفوظ ذرائع کی فراہمی ،قوانین محنت کا اطلاق ،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ،سیاسی نمائندگی ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام میں خواتین کے مساوی شمولیت، ملکی اوربین لاقوامی قوانین پر عمل درآمدیقینی بنا نے کے ذریعے کیا جانا چاہے تاکہ ہر طبقے کی عورت کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔
 وقت کا تقاضہ ہے کہ اشتہار بازی، سیاسی نعرے بازی اور لفظی جمع خرچ کی بجائے حکومت وقت ، سیاسی جماعتیں ،سماجی اور مزدورتنظیمیں، دانشور اور میڈیا مل کر ملک کی آدھی ا ٓبادی کو ظلم و جبر کی زنجیروں سے آزاد کرنے کے لیے ہر سطح پر خلوص نیت سے کوشش کریں۔
 خواتین کا عالمی دن!مبارک