ایس ای سی پی نے 2029 تک ای ایس جی نظام کے مکمل نفاذ کا ہدف مقرر کیا ہے سمپوزیم سے خطاب
اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان ای ایس جی پالیسی سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی ماحولیاتی اہداف اور سرمایہ کاری کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قواعد پر مبنی کسی بھی کمپنی کی مضبوطی ،ساکھ اور شفافیت کے ای ایس جی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک اور اکاؤنٹنٹ کمیشن آف پاکستان ای ایس جی فریم ورک کی تشکیل میں شامل ہیں جبکہ حکومت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ای ایس جی کے لیے واضح معیار اور حد بندی ضروری ہے۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ای ایس جی ابھی تک مرکزی کاروباری ترجیح نہیں بن سکا اور ملکی سطح پر صرف محدود فیصد کاروباری ادارے پائیداری یا ای ایس جی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو معیاری اور الگ ای ایس جی رپورٹس جاری کرنی چاہئیں تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ ای ایس جی رپورٹنگ میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کا فقدان موجود ہے جبکہ کارپوریٹ شعبے میں رپورٹنگ کے حوالے سے مزاحمت بھی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریگولیشنز کو مضبوط قوانین کی شکل دینا ضروری ہے اور ایس ای سی پی نے 2029 تک ای ایس جی نظام کے مکمل نفاذ کا ہدف مقرر کیا ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان ایک مشترکہ فورم پر مکالمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہر سال تقریباً 30 لاکھ افراد روزگار کی منڈی میں شامل ہو رہے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح تقریباً 7 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ای ایس جی رپورٹنگ کو قابلِ پیمائش اور قابلِ جانچ بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ بیشتر کمپنیاں اپنی رپورٹ خود تیار کرتی ہیں جبکہ آزاد تصدیق کا نظام کمزور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای ایس جی صرف ماحولیات نہیں بلکہ مزدوروں کے حقوق اور گورننس سے بھی متعلق ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ بڑے آلودگی پھیلانے والے ادارے رپورٹنگ تو کر رہے ہیں مگر زمینی سطح پر بہتری محدود ہے، اس لیے ماحولیاتی شعبہ محض نمائشی رپورٹنگ کا نظام نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں ایک قومی ای ایس جی فورم کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اکیلے تمام ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی اور پاکستان کو بین الاقوامی تعاون سے فائدہ اٹھا کر صنعتی اور روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے