پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

بایران کے معاملے پربھی دونوں ممالک کی سوچ مختلف ہے۔ایران کے حوالے سے سعودی عرب طویل عرصے تک سخت مؤقف رکھتارہاجبکہ یواے ای نے حالیہ برسوں میں خاموش مفاہمت کاراستہ اختیارکیاتجارت،سفارت اورسیکیورٹی چینلزکھولے گئے۔اس کے برعکس یواے ای نے اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ کرکے نہ صرف ایک نیاعلاقائی راستہ کھولابلکہ خودکوامریکاکاسب سے قابلِ اعتماد خلیجی اتحادی بھی ثابت کیاجبکہ سعودی عرب اب تک محتاط ہے اورداخلی ومذہبی دباؤاورخطے میں اپنی تاریخی حیثیت اسے فوری قدم اٹھانے سے روکتی ہے۔یواے ای کاایک قدم آگے نکل جاناریاض کیلئے ایک خاموش مگرگہراپیغام تھا۔یہ فرق بھی دونوں دارالحکومتوں کے درمیان خاموش تناؤکاسبب ہے۔یہ فرق خلیجی سلامتی کے تصورمیں بنیادی اختلاف کوظاہرکرتاہے۔یہی فرق وہ پس منظرفراہم کرتاہے جس میں یواے ای کابھارت کی طرف جھکاؤسمجھ میں آتاہے۔ 
سطحی طورپریواے ای بھارت تعلق کودفاعی تعاون کے طورپردیکھاگیا،مگرحقیقت میں یہ ایک ہمہ جہت معاشی شراکت ہے۔گیس کی طویل مدتی فراہمی،اربوں ڈالرکی توانائی سرمایہ  تجارت،مصنوعی ذہانت،خلائی صنعت اورایٹمی ٹیکنالوجی یہ سب اس بات کااعلان ہے کہ یواے ای بھارت کومستقبل کاستون سمجھ رہاہے۔یہ انتخاب محض بھارت کے حق میں نہیں بلکہ ایک ریاض اوراسلام آباد دونوں کیلئے بالواسطہ پیغام بھی ہے۔شیخ محمدبن زایدکابھارت کامختصرمگرغیرمعمولی دورہ محض رسمی ملاقات نہیں تھا۔دفاعی معاہدہ ہویا100سے200  ارب ڈالرکی تجارتی شراکتاصل نکتہ دفاع نہیں بلکہ معیشت ہے۔ یواے ای نے بھارت کو ستقبل کا راکت دار نتخب کیا ے، بکہ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔
اسی تصویرمیں پاکستان کامقام خاصامعنی خیزہے۔یواے ای کے صدر پاکستان آئے،مگردارالحکومت کی بجائے فوجی کینٹ گئے،کوئی بڑاتجارتی معاہدہ نہ ہوا،سرمایہ کاری کاکوئی واضح اعلان سامنے نہ آیا۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک خاموش سفارتی اشارہ تھاکہ پاکستان کے ساتھ تعلق اب زیادہ ترسیکیورٹی تک محدودہے،معیشت تک نہیں۔پاکستان خلیجی ممالک کودفاعی خدمات،فوجی تربیت اور سیکیورٹی فراہم کرتاہے،مگراس کے بدلے نہ برآمدات بڑھتی ہیں،نہ سرمایہ کاری،صنعت، ٹیکنالوجی اورطویل مدتی تجارت اس تعلق کاحصہ نہیں بن سکیں۔یہ توازن خطرناک حدتک یک طرفہ ہوچکاہے۔
یہاں پاکستان ایک خاموش مگراہم عنصرکے طو پرسامنے آتاہے۔سعودی عرب پاکستان کودفاعی ستون اوراسٹریٹجک ضمانت سمجھتا ہے جبکہ یواے ای کاجھکا ؤتیزی سے بھارت کی طرف بڑھ رہاہے۔یہ فرق مستقبل میں خلیجی سیاست کوجنوبی ایشیاکی طاقتوں سے براہِ راست جوڑدے گا۔یہ سوال یہاں ناگزیرہوجاتاہے کہ کیایواے ای نے بھارت کاانتخاب سعودی اثرسے توازن پیداکرنے کیلئے کیا؟ سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں،مگرحالیہ معاہدوں نے اسے مزیدمضبوط کیاہے۔پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے،اوریہی حقیقت اسے خلیجی سیاست میں ایک حساس عنصربناتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں امریکا کونظراندازکرنا خودفریبی ہوگی۔واشنگٹن بھارت کوچین کے مقابلے میں مرکزی مہرہ سمجھتا ہے، جبکہ یواے ای اس کاقریبی اتحادی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورغزہ امن بورڈ میں شمولیت اسی حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔یوں یو اے ای کابھارت کی طرف جھکاؤبڑی حدتک امریکی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔امریکا، اسرائیل اوربھارت پرمشتمل غیراعلانیہ ٹرائکا چین روس بلاک کے مقابلے میں صف بندہے۔ پاکستان چونکہ چین کاقریبی اتحادی،سی پیک کامرکز،روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات رکھتاہے، اس لیے اس پردباؤ فطری ہے۔
گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی عسکری صلاحیت کوعالمی سطح پرسراہاگیا،مگریہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عسکری برتری معاشی کشش کانعم البدل نہیں۔دنیااب یہ نہیں دیکھتی کہ کون بہترلڑسکتاہے،بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ کون سرمایہ محفوظ رکھ سکتاہے،کون طویل مدتی منافع دے سکتاہے،اورکون عالمی سپلائی چین کاحصہ ہے۔اس میدان میں پاکستان پیچھے ہے۔
یہ کہناجذباتی لگ سکتاہے،مگرحقیقت یہ ہے کہ امریکا،اسرائیل اوربھارت پرمشتمل غیراعلانیہ صف بندی پاکستان کومعاشی طورپر کمزوردیکھناچاہتی ہے تاکہ وہ آزادخارجہ پالیسی نہ اپنا سکے مگربیرونی دباؤتب ہی کارگرہوتاہے جب اندرونی کمزوریاں موجودہوں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی بحران یہی ہے کہ وہ آج کوبچانے میں کل کوکھودیتی ہے۔قرض، بیل آٹ اوروقتی سہارااس کا محور بن چکے ہیں،جبکہ معاشی طاقت کی تعمیرنظراندازہورہی ہے۔یہی فرق ہے بھارت اورپاکستان میں۔اگر اکستان واقعی خطے میں مؤثر کردارچاہتاہے تواسے خارجہ پالیسی کومعیشت سے جوڑناہوگا۔روس،چین اورممکنہ طورپرترکی و ایران کے ساتھ دفاعی وسیاسی کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی بڑھانی ہوگی۔کسی ایک خلیجی کیمپ کااندھا حصہ بننے کے بجائے توازن کی پالیسی اپنائی جائے۔
سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان بڑھتاہواتنا،یواے ایبھارت معاہدہ،اورپاکستان کی سفارتی پوزیشن یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔سعودی عرب اوریو اے ای کے درمیان موجودہ تناکوئی حادثہ نہیں بلکہ طاقت کی نئی تقسیم کانتیجہ ہے۔یہ کہانی بتاتی ہے کہ دنیابدل چکی ہے اورطاقت کامعیاربھی۔دنیا جذبات سے نہیں،معیشت،حکمتِ عملی اورمستقل فیصلوں سے چلتی ہے۔ اگرہم نے اب بھی سبق نہ سیکھاتو آنے والے برسوں میں ایسے معاہدے معمول بن جائیں گیاورہم ہرباریہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخر ہمارے ساتھ ایساکیوں ہوا؟
اس پورے منظرنامے کاسب سے تکلیف دہ پہلویہ ہے کہ پاکستان آج خودکوایک ایسے مقام پرکھڑاپاتاہے جہاں اس کے پاس شکایات تو بہت ہیں،مگرمؤثرجوابات کم ہوتے جا رہے ہیں۔افغانستان کاہاتھ سے نکل جانا،بھارت کاوہاں اثرورسوخ بڑھانا،خلیجی ممالک کاپاکستان کومحض سیکیورٹی پارٹن سمجھنا،اورسرمایہ،تجارت وٹیکنالوجی کے دروازے بندہونا یہ سب کسی ایک بیرونی سازش کانتیجہ نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں،غلط ترجیحات اورپالیسی کی غیرمستقل مزاجی کاحاصل ہے۔
یہاں یہ سوال مقتدراشرافیہ،ریاستی فیصلہ سازوں اورپالیسی سازی کے مراکزسے براہِ راست پوچھناناگزیرہوچکاہے کیاہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ریاستیں جذبات،قربانیوں اورماضی کی خدمات کے اعتراف پرچلتی ہیں؟یاپھریہ حقیقت ماننے کوتیارہیں کہ آج کی دنیا صرف معیشت،ادارہ جاتی استحکام اورمستقل حکمتِ عملی کومانتی ہے؟اب وقت آگیاہے کہ پاکستان خودسے سچ بولے۔افغانستان کاہاتھ سے نکل جاناکسی ایک واقعے یاایک حکومت کی ناکامی نہیں،بلکہ برسوں پرمحیط غلط پالیسیوں،ادارہ جاتی کمزوریوں اورغیر شفاف فیصلہ سازی کانتیجہ ہے۔یہی ماڈل اگرخلیجی ممالک کے ساتھ بھی دہرایاگیاتونقصان صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی اوراسٹریٹجک ہو گا۔
یہ سوال اب ٹالنے کے قابل نہیں رہاکہ کیاپاکستان کی بیوروکریسی آزادانہ طورپرقومی مفادمیں پالیسی سازی کے قابل نہیں رہی؟یاپھر کچھ نادیدہ قوتیں ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اورریاستی ڈھانچے کواس اندا میں کنٹرول کررہے ہیں کہ جہاں ایماندار،باصلاحیت، پیشہ وراوراصول پسندافسران کوان کی دیانت کی سزااوایس ڈی بناکر دی جارہی ہے جیساکہ اس سے قبل میرے ایک مضمون میں تفصیل سے بیان کیاجاچکاہے؟اگرپالیسی وہ لوگ بنائیں گے جن کی اولین ترجیح قومی مفاد کی بجائے کسی مخصوص مافیا، گروہ یاوقتی فائدے کاتحفظ ہو،پالیسیاں مخصوص مفادات کے تابع رہیں،یہی مافیا اپنے فائدے کیلئے ایسی پالیسیاں جاری کریں تونتیجہ یہی نکلے گاکہ ملک ایک بارپھرمعاشی دیوالیہ پن کے دہانے پرجاکھڑاہوگا۔
دنیااب قربانیوں کی کہانیاں نہیں سنتی،دنیاسرمایہ،استحکام اوراعتماددیکھتی ہے۔عسکری صلاحیت اہم ہے،مگرمعاشی طاقت کے بغیر وہ سفارتی اثرنہیں بن سکتی۔پاکستان اگرواقعی خطے میں باوقارکردارچاہتاہے تواسے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کوصرف سیکیورٹی تک محدودرکھنے کی بجائے تجارت،صنعت،ٹیکنالوجی اورسرمایہ کاری سے جوڑناہوگا۔اسی طرح روس،چین،ترکی اور ایران کے ساتھ توازن پرمبنی اسٹریٹجک ہم آہنگی ناگزیرہوچکی ہے۔
یہ مضمون ایک داخلی احتساب کی دعوت ہے۔یہ کسی فرد، دارے یاریاست پرالزام نہیں،بلکہ ایک تنبیہ ہے۔دنیابدل چکی ہے،طاقت کامعیاربدل چکاہے اگر پاکستان نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں توایسے معاہدے معمول بنتے جائیں گے جن میں ہماراذکر صرف ایک ثانوی کردارکے طورپرہوگا۔اگرپاکستان نے اب بھی سبق نہ سیکھاتوآئندہ برسوں میں یواے ای بھارت جیسے معاہدے معمول بنتے جائیں گے،اورہم ہرباریہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخرہمارے ساتھ ایساکیوں ہوا؟ 
ضروری ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کومعیشت،تجارت اورشراکت پراستوارکرے،یاپھروہ بدلتی دنیامیں محض سوال پوچھتارہ جائے۔دنیابددعاؤں پرنہیں،معاہدوں،معیشت اورمستقل حکمتِ عملی پرچلتی ہے۔ریاستیں دعوں سے نہیں،فیصلوں سے بنتی ہیں اور فیصلوں میں تاخیراب پاکستان کیلئے سب سے بڑاخطرہ بن چکی ہے۔ قومیں سوال پوچھنے سے نہیں، جواب تیارکرنے سے آگے بڑھتی ہیں۔اوریہی وہ امتحان ہے جس میں پاکستان آج کھڑاہے۔