پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
بین الاقوامی سیاست میں کچھ لمحات محض واقعات نہیں ہوتے،وہ قوموں کیلئے آئینہ بن جاتے ہیں۔ایسے آئینے جن میں ریاستیں اپنے فیصلوں،ترجیحات اورغلطیوں کاعکس دیکھتی ہیںخواہ وہ عکس کتناہی تلخ کیوں نہ ہو۔عالمی سیاست میں بعض خبریں محض اطلاع نہیں ہوتیں،وہ ریاستوں کیلئے لمح فکریہ بن جاتی ہیں آج مشرقِ وسطی،جنوبی ایشیااورعالمی طاقتوں کیمابین بدلتاہوا توازن بھی پاکستان کیلئے ایساہی ایک آئینہ ہے،جس میں ہمیں باربار وہ سوال دکھائی دیتاہے جس سے ہم برسوں سے نظریں چر رہے ہیں،کیا ہم درست سمت میں کھڑے ہیں؟
متحدہ عرب امارات کابھارت کی طرف تیزی سے بڑھتاجھکا،سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان بڑھتاہواخاموش تنا،اس کے نتیجے میں سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان خاموش مگرگہرے اختلافات،اورافغانستان میں پاکستان کیاثرورسوخ کامسلسل زوال،افغانستان کاوہ منظرنامہ جہاں پاکستان دہائیوں کی جانی ومالی قربانیوں،ابھرتی معیشت اور سفارتی سرمایہ کاری کے باوجود نہ صرف اثر رسوخ کھوبیٹھابلکہ آج وہی افغانستان بھارت کے ساتھ قربت اختیارکرکے پاکستان کوعلاقائی طورپرکمزورکرنے کاذریعہ بنتادکھائی دیتا ہے۔ 
افغانستان وہ ملک ہے جس پرپاکستان نے دہائیوں تک اپنی معیشت،سلامتی اورسفارت کابوجھ اٹھائے رکھا۔جانی قربانیاں دیں،مالی نقصان برداشت کیا،عالمی دباؤسہامگرنتیجہ یہ نکلاکہ آج وہی افغانستان بھارت کے قریب ہے،اوربھارت وہاں سے پاکستان کو کمزورکرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔یہی طرزِفکرہم خلیجی ممالک کے حوالے سے بھی اپناتے رہے ،جذباتی وابستگی،وقتی ضرورتوں پرمبنی فیصلے،اورمعیشت سے کٹی ہوئی خارجہ پالیسی،نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔یہ سب واقعات الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی اسٹریٹجک ناکامی کی مختلف شکلیں اور ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔
خلیج کی بدلتی سیاست،سعودی یواے ای اختلافات اوریو اے ای بھارت قربت کے ذریعے ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتاہے۔یہ محض خلیجی سیاست،یو اے ای بھارت قربت یاسعودی قیادت کے سوال تک محدود نہیں،بلکہ اس بنیادی بحران کی نشاندہی کرتاہے جوپاکستان کی خارجہ پالیسی،معاشی سمت اورریاستی فیصلہ سازی کے اندرگہرائی تک سرایت کرچکاہے۔سوال یہ نہیں کہ دنیاکیوں بدل رہی ہے،اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں پیچھے رہ گیاہے؟کیا ہم نے خود کو بدلنے کیلئے سنجیدگی اختیار کی ہے یا نہیں؟ کیا ہم نے اپنی ان تمام ناکامیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داروں کوکٹہرے میں کھڑاکرکے انہیں سزا دی ہے؟اگرنہیں تواس کی کیاوجہ ہے؟کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوارکرنے کیلئے تیارہے،یاوہ اب بھی ماضی کے سہاروں پرحال کوبچانے کی کوشش میں مستقبل گنواتارہے گا 
بین الاقوامی سیاست میں کچھ خبریں محض سرخی نہیں ہوتیں بلکہ وہ آئینہ بن جاتی ہیںایساآئینہ جس میں قومیں اپنااصل چہرہ دیکھتی ہیں،خواہ وہ خوبصورت ہویاتکلیف دہ۔ متحدہ عرب امارات کے صدرشیخ محمدبن زایدکا اچانک بھارت کا،غیر معمولی۔محض ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ پرمحیط یہ دور ہ ایسی ہی خبرثابت ہواجو دراصل برسوں پرمحیط اسٹریٹجک فیصلوں کا اعلان تھا،جس کے اثرات نئی دہلی سے لے کرریاض، اسلام آباداورواشنگٹن تک محسوس کیے جارہے ہیں۔یواے ای اوربھارت کے درمیان دفاعی تعاون 100ارب ڈالرسے بڑھاک 200ارب ڈالرتک تجارتی شراکت،توانائی،خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت،ایٹمی ری ایکٹرزاور انفراسٹرکچرمیں سرمایہ کاری کیاعلانات کسی فوری ردعمل کانتیجہ نہیں تھے۔یہ سب ایک گہری،سوچی سمجھی حکمتِ عملی کاحصہ تھے۔اصل سوال یہ نہیں کہ یواے ای بھارت کے قریب کیوں گیا،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس بدلتی تصویرمیں پاکستان کہاں کھڑاہے،اورخلیج کیاندرخودکیاکچھ بدل رہاہے؟
خلیجی سیاست کواگرایک جملے میں بیان کیاجائے توشایداس سے زیادہ جامع اورحقیقت کیقریب کوئی جملہ نہیں ہوسکتاکہ یہاں دوستی مستقل نہیں، مفاد ستقل ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بظاہرایک ہی خلیجی خیمے کے ستون اورایک ہی خلیجی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔مشترکہ مذہبی شناخت،تیل پرمبنی معیشت،امریکی اتحاد،علاقائی سلامتی کے مشترکہ بیانیے اورخطے میں استحکام کادعوے یہ سب عناصرانہیں ایک مضبوط اتحادکی تصویرمیں پیش کرتے ہیں۔مگرحقیقت اس تصویرسے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
 اس ظاہری ہم آہنگی کے نیچے اختلافات کی ایک ایسی تہہ موجودہے جووقت کے ساتھ مزیدگہری ہورہی ہے۔پردے کے پیچھے،ان دونوں ریاستوں کے درمیان اختلافات کی ایک ایسی خلیج پیداہوچکی ہے جومحض وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کی ہے،یعنی طاقت، قیادت،معیشت اورعالمی صف بندی کے بنیادی سوالات سیجڑے ہوئے یہ اختلافات اب سفارتی سرگوشیوں یابندکمروں کی گفتگو تک محدودنہیں رہے۔یہ معیشت، عسکری حکمتِ عملی،علاقائی قیادت،عالمی اتحادوں اورحتی کہ جنوب ایشیامیں طاقت کے توازن تک پھیل چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اثرات محض ریاض اورابو ظہبی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطی،جنوبی ایشیا اورعالمی سیاست پراثراندازہوں گے۔
سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات بظاہرایک ہی خلیجی خیمے کے مضبوط ستون دکھائی دیتے ہیں،مگرحقیقت میں ان کے درمیان اختلافات کی خلیج دن بدن گہری ہوتی جارہی ہے۔یہ اختلافات اب صرف بندکمروں کی گفتگوتک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی، عسکری اورجغرافیائی سیاست میں واضح طورپرجھلکنے لگے ہیں۔یہ تناؤوقتی یاجذباتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کاہے،جس کیاثرات آنے والے برسوں میں پورے مشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیاکی سیاست پرمرتب ہوں گے۔
سعودی عرب خودکو خلیجی دنیاکا فطری قائدسمجھتاآیاہے۔اس کی بنیادمحض معاشی طاقت یاجغرافیہ نہیں بلکہ ایک گہری تاریخی اور مذہبی حیثیت اورآبادی میں ہے۔حرمین شریفین کی تولیت،مسلم دنیامیں مرکزی مذہبی مقام،اوردہائیوں پرمحیط عرب قیادت اورامریکا کے ساتھ پرانااسٹریٹجک تعلق یہ سب سعودی بیانیے کاحصہ سعودی قیادت کے دعوے کی بنیاد ہیں ۔اس کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات ایک بالکل مختلف ماڈل پیش کرتاہے۔یہ ماڈل مذہبی قیادت کی بجائے جدیدمعیشت عالمی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی،لاجسٹکس، فنانس سروسز اوراسمارٹ گورننس پرکھڑاہے۔محمدبن سلمان اورمحمد بن زایددونوں طاقتور،فیصلہ کن اورعلاقائی اثرورسوخ کے خواہاں رہنماہیں۔دونوں کاوژن علاقائی نہیں بلکہ عالمی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایک ہی خطے میں دو مضبوط اورخودمختارقیادتیں طویل عرصے تک بغیرکشمکش اورتصادم کے نہیں رہ سکتیںچاہے یہ کشمکش کھلی جنگ کی صورت میں ہویاخاموش سفارتی مقابلیکی شکل میں،یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے سعودییو اے ای اختلافات کی جڑپھوٹتی ہے۔یہی مقابلہ آج خلیجی سیاست کی سمت متعین کررہاہے۔
یہ اختلاف سب سے زیادہ واضح اورنمایاں طورپرمعاشی میدان میں سامنے آیاہے۔سعودی عرب کاوژن2030دراصل ایک انقلابی منصوبہ ہے جس کامقصدتیل پرانحصارکم کرکے ریاض کوعلاقائی کاروباری مرکزبنانا،غیرملکی کمپنیوں کوریاض میں ہیڈکوارٹرقائم کرنے پرمجبورکرناہے۔نیوم،ریڈسی، قدیہ جیسے میگامنصوبوں پراربوں ڈالرجھونک رہاہے، اور خودکوخطے کانیا معاشی مرکزبنانے کی کوشش میں ہے۔پراجیکٹس کے ذریعے سرمایہ کھینچنا،یہ سب کچھ بالواسطہ طورپریواے ای کے قائم کردہ دبئی ماڈل کیلئے براہِ راست چیلنج ہے اور سعودی پالیسی کواپنے لیے براہِ راست معاشی خطرہ سمجھتاہے۔
یواے ای پہلے ہی دبئی اورابو ظہبی کوعالمی مالیاتی مراکزبناچکاہے،لاجسٹکس،ایوی ایشن اورٹریڈ میں برتری رکھتاہے۔خطے کاسب سے کھلااورلچکداربزنس ماحول فراہم کرتاہے،اسی وجہ سے اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار،تجارتی مراعات اورسرمایہ کاری کے بہاپردونوں ممالک کے درمیان اختلافات کھل کرسامنے آئے۔یہ صرف معاشی مسابقت نہیں بلکہ بلکہ اثرورسوخ  کی بالادستی کی جنگ ہے۔ 
یمن جنگ وہ پہلاعملی میدان تھاجہاں سعودی عرب اوریواے ای ایک ساتھ اترے مگروقت کے ساتھ دونوں کے اہداف مختلف ہوتے چلے گئے۔اختلافات نمایاں ہونے کی بنا پر ایک ساتھ نکل نہ سکے۔سعودی عرب یمن میں ایک متحدریاست اورحوثیوں کی مکمل شکست چاہتاتھاجبکہ یواے ای کی توجہ جنوبی یمن،بندرگاہوں اورتجارتی راستوں پرمرکوزرہی اور جنوبی یمن میں اپنے اتحادی مضبوط کرکے بندرگاہوں،تجارتی راستوں اورساحلی پٹی پراثرورسوخ چاہتا تھا۔نتیجہ یہ نکلاکہ یواے ای نے بتدریج اپناعسکری کردارکم کردیا،نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی عرب خودکومیدان میں نسبتاتنہامحسوس کرنے لگا۔یہی وہ لمحہ تھاجہاں اعتمادکابحران شروع ہوا۔اوربرسوں سے قائم دوستی کے رشتوں میں دراڑپڑگئی۔ 
اسی طرح اخوان المسلمون اورسیاسی اسلام کے معاملے پربھی دونوں ممالک کے رویے اور اختلاف محض جغرافیائی یا معاشی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔یواے ای اخوان المسلمون کواپنی ریاستی سلامتی اورساخت کیلئے وجودی خطرہ سمجھتا ہے جبکہ سعودی عرب کامؤقف اس معاملے میں زیادہ محتاط،لچکداراوروقتی رہتاہے۔کبھی سختی،کبھی مفاہمت ،یہ ابہام دونوں ممالک کے درمیان فکری فاصلے اور نظریاتی ابہام کے درمیان فکری فاصلے کومزیدبڑھاتاگیا۔(جاری ہے)