طلعت بٹ
پاکستانی سیاست ہمیشہ سے تضادات، امیدوں اور مایوسیوں کا امتزاج رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک جمہوریت اور آمریت کے درمیان جھولتا ہوا یہ نظام عوام کے اعتماد کو مکمل طور پر حاصل نہ کر سکا۔ ہر دور میں نعرے بدلے، چہرے بدلے، مگر مسائل کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوامی فلاح ہونا چاہیے ، مگر ہمارے ہاں سیاست زیادہ تر اقتدار کی جنگ بن کر رہ گئی ہے۔ انتخابی مہمات میں کیے گئے وعدے اقتدار ملتے ہی پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل سیاستدانوں کی ترجیحات میں اکثر آخری نمبر پر نظر آتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اداروں کے درمیان توازن برقرار نہیں رہ سکا۔ کبھی سیاست کمزور ہوئی تو غیرسیاسی قوتیں مضبوط ہو گئیں ، اور کبھی سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائی نے نظام کو مفلوج کر دیا۔ نتیجتاً نقصان ہمیشہ عام آدمی کا ہی ہوا۔ سیاسی جماعتیں نظریات کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ ایک ہی خاندان دہائیوں سے سیاست پر قابض نظر آتا ہے ، جس کی وجہ سے نئی قیادت آگے نہیں آ پاتی۔ نوجوان، جو اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں ، یا تو سیاست سے مایوس ہو جاتے ہیں یا ملک چھوڑنے کا خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ میڈیا نے سیاست کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ ٹاک شوز میں مسائل کے حل کے بجائے الزام تراشی اور شور شرابا زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں عوام کو آواز دی ، وہیں نفرت، غلط معلومات اور تقسیم کو بھی بڑھاوا دیا۔ اس تمام صورتحال کے باوجود امید کی کرن ابھی باقی ہے۔ عوام اب پہلے سے زیادہ باخبر ہیں۔ وہ سوال پوچھنا جانتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر ووٹر شعوری طور پر فیصلہ کرے ، اور سیاستدان ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں ، تو تبدیلی ناممکن نہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی سیاست کو افراد نہیں، ادارے اور اصول مضبوط کر سکتے ہیں۔ جب تک سیاست خدمت نہیں بنے گی اور اقتدار کو امانت نہیں سمجھا جائے گا یہ کاروبار مملکت ماضی کی طرح اپنی کوئی بھی منزل مقصود حاصل نہ کر سکیں گے۔ کیونکہ پاکستان کے طالب علم نفسیاتی طور پر بڑے مایوس اور الجھوں کا شکار نظر آتے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کے لئے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں سو خدمت کے جذبے سے لبریز طالب علم اپنی ساری توجہ ملک سے باہر نکلے کیلئیغیر قانونی طور پر ڈنکی لگا کر زندگی خطرے میں ڈال کر روزگار کی غرض سے زندگی سے بھر پور اور اپنوں سے ہزاروں میل دور اپنا دیس چھوڑ کر یورپ اور ارب ممالک شفٹ ہونا اپنا مقدر سمجھ لیتے ہیں۔ اگر پیارے پاکستان میں تعلیم و تربیت اور میڈیکل کی سہولت حاصل ہوں اور روزگار میسر ہو تو کبھی بھی اور کوئی بھی کیسے پاکستان کو چھوڑ کر غیر ملکی غلامی قبول کرے گا۔ عدلیہ کی طرف نظر ڈالیں تو ہر طرف انصاف کا فقدان محسوس ہوتا ہے اور عدالتوں میں لاکھوں مقدمات (زیر سماعت) اور زیر التوا ہیں مگر کوئی بھی عدالت کسی بھی مجرم کو کیفرکردار تک نہیں پہنچاتی اور سالہاسال جج صاحبان کسی کو بھی سستا انصاف مہیا کرنے میں مجبور رہتے ہیں . دیہات تو ایک طرف شہری علاقوں میں بھی میڈیکل اور تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ بلکہ ان سہولیات کو ختم کرنے جیسے پروگرام بنائے جارہے ہیں۔ موجودہ نظام کے متاثر ہونے سے عام شہری کو بر وقت بن?ادی سہو لیات میسر نہیں۔ جو ایک لمحہ فکریہ ھے جس کی جانب حکمرانوں کی توجہ مبزول کروانا ہم سب کا اولین فرض ھے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ رب العزت
پاکستان کو قائم و دائم رکھے۔ (آمین)