پاکستان نے بحری اور توانائی کے شعبوں میں تاریخی پیش رفت کی ہے، جس کے تحت پہلی بار بین الاقوامی تنظیم برائے بحری امور (IMO) کے معیار کے مطابق ماحول دوست انتہائی کم سلفر فیول آئل (VLSFO) کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور باقاعدہ ترسیل کا کامیابی سے آغاز کیا گیا ہے۔
یہ اہم کامیابی ملکی بحری اور توانائی کی صنعت میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق، کراچی پورٹ سے 8,722 میٹرک ٹن وزنی ویٹول کی ترسیل سنگاپور کی بنکر بارج کے ذریعے انجام دی گئی، جو پاکستان کی میری ٹائم انڈسٹری میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ عمل بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بحری صنعت کی ساکھ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست ایندھن کی مقامی پیداوار کے ذریعے ساحلی اور سمندری ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔حکام کے مطابق، پاکستان کی جانب سے IMO کے معیار کے مطابق VLSFO کی پیداوار اور اس کی باقاعدہ ترسیل کے آغاز سے ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم ترقی ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی بندرگاہوں کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی سطح پر پاکستان کی بحری تجارت کو مضبوط اور قابلِ اعتماد مقام حاصل ہوگا۔
یہ کامیابی وزیرِ اعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری امور اور مختلف متعلقہ سرکاری اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے پیداوار اور سپلائی کے تمام مراحل کو عالمی معیارات کے مطابق یقینی بنایا۔ اس سے قبل، ویٹول کمپنی نے پاکستان کے بحری شعبے میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا تھا، جن میں بارج آپریشنز اور دیگر اہم شعبے شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ، ملکی سطح پر ماحول دوست میرین فیول کی تیاری اور ترسیل پاکستان کو علاقائی بحری تجارت میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد مقام فراہم کرے گی، جس سے نہ صرف اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ ماحولیاتی تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔