90ء کی دہائی میں زرد صحافت بے قابو تھی: روینہ ٹنڈن

90ء کی دہائی میں زرد صحافت بے قابو تھی: روینہ ٹنڈن

روینہ ٹنڈن نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں 90 کی دہائی کے دوران شوبز شخصیات کے خلاف ہونے والی زرد صحافت پر کھل کر بات کی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اس دور میں جھوٹی یا منفی خبروں کا ازالہ کرنا تقریباً ناممکن تھا اور ایک بار نقصان ہونے کے بعد اسے واپس لینا ممکن نہیں تھا۔اداکارہ نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے فنکاروں کے پاس اپنی بات براہِ راست عوام تک پہنچانے کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دور میں زرد صحافت پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، اگر کسی اخبار یا میگزین میں منفی خبر شائع ہو جاتی تو فنکار صرف خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ آج کے دور میں انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فنکار فوری طور پر اپنی وضاحتیں دے سکتے ہیں، مگر 90 کی دہائی میں ایسا ممکن نہیں تھا۔روینہ ٹنڈن نے یہ بھی بتایا کہ اُس وقت ایڈیٹرز تک رسائی بہت اہم سمجھی جاتی تھی کیونکہ وہ ہی فیصلہ کرتے تھے کہ کسی خبر کو کس انداز میں پیش کیا جائے گا۔

 انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر آپ کسی نجی شخصیت تھے تو آپ کو سکون سے جینے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ منفی سرخیوں کے بعد اکثر چھوٹا سا معذرتی نوٹ دے دیا جاتا تھا، مگر تب تک نقصان ہو چکا ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل نقصان تو بڑی ہیڈ لائنز کرتی تھیں، اور بعد کی معذرتیں بے معنی لگتی تھیں۔واضح رہے کہ روینہ ٹنڈن جلد ہی اکشے کمار کے ساتھ فلم "ویلکم ٹو دی جنگل" میں نظر آئیں گی، جو 26 جون 2026 کو ریلیز ہوگی۔