جاہلانہ تقدس کا گھناؤنا کھیل جعلی پیروں کے عالمی و ملکی فراڈ

احمدخان اچکزئی
محترم قارئین۔مذہبی عقیدت اور اندھی تقلید کا فائدہ اٹھا کر انسانیت کو لوٹنے کا دھندہ جتنا پرانا ہے، اتنا ہی منظم بھی ہو چکا ہے۔  سوال یہ ہے کہ "زندہ رہنے تک کوئی کرامت نہیں ہوتی لیکن مرتے ہی معجزات کی فیکٹریاں کھل جاتی ہیں" دراصل اس پورے مافیا کی اصل جڑ کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی "روحانی سرمایہ کاری ہے جہاں پاپا جانی سے لے کر ان کے گدی نشین بیٹوں تک، پورا خاندان نسل در نسل بغیر ٹیکس کے ایک ایسی ملوکیت چلاتا ہے جس کا ایندھن غریب اور جاہل عوام کا خون پسینہ بنتا ہے۔ یہ فراڈ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک نفسیاتی اور معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔عالمی سطح پر اگر اس دھندے کا جائزہ لیا جائے تو "شیمین ازم اور جعلی روحانیت کے نام پر افریقہ، لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا میں سالانہ اربوں ڈالرز کا کالا دھن گردش کرتا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ اور مختلف سماجی تنظیموں کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں اندھی عقیدت کے باعث سالانہ 50 ہزار سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، جعلی عاملوں اور پیروں کے ہاتھوں جسمانی تشدد، جنسی استحصال اور سحر انگیزی کے نام پر قتل ہو جاتے ہیں۔ افریقی ممالک جیسے نائیجیریا اور کینیا میں "پیسٹر کلچر" اور ہندوستان و پاکستان میں "پیر پرستی" کے نیٹ ورکس بالکل ایک جیسے خطوط پر کام کر رہے ہیں، جہاں معجزات کی ویڈیوز کیمرے کے سامنے کبھی ثابت نہیں ہوتیں لیکن بند کمروں اور کتابوں میں مردے زندہ کرنے کے دعوے عام ہیں۔پاکستانی معاشرے میں اس کینسر کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ یہاں یہ باقاعدہ ایک متوازی معیشت بن چکا ہے۔ ایک غیر سرکاری سروے اور سماجی رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں چھوٹے بڑے مزارات، آستانوں اور درگاہوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جہاں صرف نذرانے، چادر چڑھانے اور منتوں کی مد میں سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کی نقدی گردش کرتی ہے، جس کا بڑا حصہ ان گدی نشینوں کی جیبوں میں جاتا ہے اور اس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ ایف آئی اے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ کے ڈیٹا کے مطابق، حالیہ چند برسوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن استخارے، جادو کا توڑ اور محبوب قدموں میں لانے کے نام پر لوٹے جانے والے شہریوں کی شکایات میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں خواتین کی بلیک میلنگ اور کروڑوں روپے کے آن لائن فراڈز شامل ہیں۔یہ مائنڈ سیٹ اور یہ مافیا ہمارے معاشرے میں کیوں اور کہاں سے پیدا ہوتا ہے، اس کی وجوہات انتہائی تلخ ہیں۔ ہمارے ہاں جب ریاست تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو مایوس اور ڈپریشن کا شکار عوام شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں۔ جب ایک باپ ہسپتال کے باہر اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے پیسے نہ ہونے پر روتا ہے، تو وہ ڈاکٹر کے بجائے کسی "پاپا جانی" کے آستانے کا رخ کرتا ہے جہاں اسے دم کیے ہوئے پانی کے بدلے جنت اور شفا کی جھوٹی تسلی بیچی جاتی ہے۔ اس نظام کو جنم دینے والا دوسرا بڑا عنصر خود غرض جاگیردارانہ اور سیاسی نظام ہے؛ پاکستان کے دیہی علاقوں میں 60 فیصد سے زائد گدی نشین خود بڑے جاگیردار اور 
سیاست دان ہیں، جو پیر مریدی کو اپنے ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک موروثی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ نسل در نسل ان کی حاکمیت قائم رہے۔ان کا پیسہ بٹورنے کا منصوبہ انتہائی سائنسی اور نفسیاتی ہوتا ہے جس کے تین بنیادی مراحل ہوتے ہیں: خوف، امید اور تقدس۔ سب سے پہلے مرید کے دل میں آسیب، جادو یا غیبی عذاب کا خوف بٹھایا جاتا ہے، پھر اسے ایک مصنوعی امید دی جاتی ہے کہ صرف پیر صاحب کی نظرِ کرم ہی اسے بچا سکتی ہے، اور آخر میں پیر کو عام انسان سے بالاتر ہستی (جیسے غوثِ اعظم ٹو) بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کی ذات پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ جب تک یہ پیر زندہ ہوتے ہیں، یہ جدید ترین لینڈ کروزر گاڑیوں میں گھومتے ہیں، جدید ہسپتالوں سے اپنا علاج کرواتے ہیں (جہاں ان کا غیب کا علم اور شفا کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں) لیکن جیسے ہی ان کی موت ہوتی ہے، ان کے چیلے چانٹے کرامات کی ایسی دکانیں کھولتے ہیں جن کا عقل اور شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ مزار بنتے ہی وہ جگہ مستقل کمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے جہاں سجدے، منتیں اور اولادیں مانگنے جیسے شرکیہ افعال سرِعام شروع ہو جاتے ہیں۔اس پورے نیٹ ورک کا اصل حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ سراسر ایک کاروباری سنڈیکیٹ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ اپنے دماغ کو عقل کی لاٹھی مارے اور اس سیدھے راستے پر آئے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اپنے نبیوں کے ذریعے دکھایا ہے، جہاں بندے اور خدا کے درمیان کسی تیسرے دلال یا مڈل مین کی ضرورت نہیں ہے۔