پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ اجلاس میں کہا ہے کہ قومی مسئلے پر ہمیں سائیڈ لائن کیا گیا ہے اور حکومت نے ایک نئی روایت قائم کر دی ہے۔
شبلی فراز نے بھارت کی جانب سے حملے، پانی بند کرنے اور شہداء کے حوالے سے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ساری قوم اور جماعتیں ملک کے لیے یکجا ہوئیں، لیکن حکومت نے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اتحاد کو برقرار نہیں رکھا۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے کسی رکن کو شامل نہیں کیا گیا، جس سے پی ٹی آئی کو قومی مسئلے پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
شبلی فراز نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اپنے خرچے پر پارلیمانی وفد کو دنیا بھر میں بھیجے گی تاکہ ملک کی خدمت کی جائے اور ان کی کارکردگی زیادہ مؤثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کی نمائندگی نہ ہونے کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی کارکردگی اور موقف مزید مضبوط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر کھوٹے اور اصلی ایک ساتھ کر دیے جائیں تو سب کھوٹے ہو جائیں گے، لہٰذا حکومت کی باتیں مؤثر نہیں ہوں گی، اور ملاقاتوں میں اپوزیشن کا نام بھی نہیں لیا جائے گا۔