ایرانی وزارت خارجہ نے برطانیہ میں ایرانی شہریوں کی گرفتاری پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
مغربی یورپ کے امور کے سربراہ شہرام قاضی زادہ نے بیان میں کہا کہ برطانیہ کی جانب سے بغیر ٹھوس ثبوت ایرانی شہریوں کی گرفتاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے برطانوی حکام کی طرف سے سفارتخانے کو اطلاع نہ دینے اور قونصلر رسائی روکنے کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔شہرام قاضی زادہ نے خبردار کیا کہ سیاسی مقاصد کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنے کے منفی نتائج کی ذمہ داری برطانیہ پر ہوگی۔
یاد رہے کہ 3 مئی کو لندن میں تین ایرانی باشندے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اگست 2024 سے فروری 2025 کے دوران مبینہ طور پر جاسوسی کی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر برطانیہ سے وضاحت طلب کی ہے اور اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت موقف اختیار کیا ہے۔