سندھ طاس معاہدہ دہائیوں اور جنگوں کے باوجود برقرار رہا: اسحاق ڈار

 240 ملین پاکستانیوں کو پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی پالیسی کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں
مشترکہ آبی وسائل تعاون اور امن کا ذریعہ بننے چاہئیں:نائب وزیراعظم کابرسلز میں کانفرنس میں خطاب
برسلز( آن لائن ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے  سرحد پار آبی وسائل کا انتظام عالمی امن، سلامتی اور پائیدار ترقی سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے، جبکہ مشترکہ آبی وسائل کا تحفظ صرف تعاون، معاہدوں اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔برسلز میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی کو کبھی بھی دباؤ، جبر یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی پاسداری کی ہے اور آبی تنازعات کے حل کے لیے قانونی و سفارتی ذرائع اختیار کیے ہیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والاواٹر انڈس ٹریڈ1960  سے آبی وسائل کے استعمال کا ایک مؤثر فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کئی دہائیوں اور تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا، جو اس کی اہمیت اور افادیت کا واضح ثبوت ہے۔اسحاق ڈار نے زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دستیاب بین الاقوامی طریقہ کار کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکطرفہ طور پر معاہدوں کو ختم کرنا یا معطل کرنا ذمہ دار ریاستوں کا طرز عمل نہیں اور ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کے منافی ہیں۔