ہنگور۔۔۔۔خاموش ضرب

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
جدیدآبدوزی ٹیکنالوجی میں ایک ایسانظام ایئرانڈیپنڈنٹ پروپلشن متعارف ہواہے۔یہ نظام دراصل توانائی کے متبادل ذرائع یعنی بیرونی فضا پرانحصارکوکم کرکے آبدوزکوطویل مدت تک زیرِآب متحرک اورسطحِ آب سے بے نیازکردیتاہے۔یہ ٹیکنالوجی آبدوزکوہفتوں بلکہ مہینوں تک زیرِآب رہنے کی صلاحیت دیتی ہے،جس سے اس کی بقااور کارکردگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوتاہے۔جس سے اس کی بقااور مؤثریت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتاہے۔سادہ لفظوں میں یہ نظام آبدوزکو’’سانس لیے بغیر‘‘طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے کے قابل بناتاہے۔تکنیکی طورپر،یہ ایندھن کے خلیوں یابندسائیکل انجنوں کے ذریعے توانائی پیداکرتاہے۔
اصل برتری صرف چھپنے میں نہیں بلکہ طویل عرصے تک مثررہنے میں ہے۔سٹیلتھ ہنگورکلاس اسی فلسفے’’خاموشی میں تسلسل ‘‘کی عملی تعبیرہے۔سٹیلتھ محض کم شورپیداکرنے کانام نہیں بلکہ ایک مکمل انجینیئرنگ فلسفہ ہے۔ہرآبدوزکی ایک’’آواز‘‘ہوتی ہے،جس طرح ہرانسانی آوازمنفرد ہوتی ہے۔جدیدآبدوزوں میں اس آوازکوکم کرنے کیلئے اس میں مشینری کو نجن سے الگ تھلگ خصوصی ماؤنٹس پر رکھاجاتاہے۔پروپیلربلیڈ کی ایک خاص جیومیٹری ہوتی ہے۔پروپرائلرکے ڈیزائن کواس اندازمیں بنایاجاتاہے کہ کاویٹیشن کم سے کم ہو، اور ہل کی شکل اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ پانی کے بہاؤمیں خلل پیدانہ ہو۔یہ تمام عوامل مل کرایک’’صوتی پوشیدگی‘‘یعنی سونارکا پتہ لگانامشکل بنادیتے ہیں۔۔
جدید آبدوزوں میں ہتھیارصرف نصب نہیں ہوتے بلکہ ایک مربوط نظام کے طورپرکام کرتے ہیں۔ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز،اینٹی شپ میزائل، جدیدوارہیڈز،اورملٹی اسپیکٹرم سینسرزیہ سب مل کرایک’’سمندری شکاری‘‘کی تشکیل کرتے ہیں۔فائرکنٹرول سسٹم،ٹارگٹ ٹریکنگ الگورتھم،اورگائیڈنس سسٹم مربوط ہیں۔ٹارپیڈومیں فعال اورغیرفعال ہومنگ کی صلاحیتیں ہوتی ہیں،ٹارپیڈوکویوں سمجھیں جیسے پانی کے اندرچلنے والاخودکارمیزائل ہے۔جدید ٹارپیڈوزخودہدف تلاش کرتے ہیں،رفتاراورگہرائی بدل سکتے ہیں۔دھوکہ دینے والے سگنلزکو پہچان سکتے ہیں جبکہ میزائل لانچ کے بعدنیویگیشن اورٹرمینل گائیڈنس کے ذریعے اپنے اہداف تک پہنچ جاتے ہیں۔اسی طرح کروز میزائل سطح کے اہداف کودورسے نشانہ بناسکتے ہیں۔
نئی آبدوزیں نہ صرف پرانی کامتبادل ہیں بلکہ مجموعی صلاحیت،رفتار،رینج اورفیصلہ سازی کی بہترین کارکردگی میں کئی گنااضافہ کرتی ہیں۔آبدوزوں میں مختلف قسم کے سینسرزفیوژن
ہوتے ہیں،جوآبدوز کے کان اورآنکھوں کاکام کرتے ہیں،۔یہ دیگرسینسرزسے ڈیٹا اکٹھاکرکے مرکزی نظام میں تجزیہ کرتے ہیں لیکن اصل چال یہ ہے کہ ان سب کوایک نظام میں جوڑدیاگیاہے اورحاصل کردہ معلومات کوشوراورسگنل کے درمیان فرق کرنے کیلئے الگورتھم کے ذریعے فلٹرکرکے غیرضروری شورکوالگ کرتاہے۔گویایہ ایک واضح حکمت عملی کی تصویر بناتاہے اورکمانڈرکوحقیقی وقت میں درست فیصلے کرنے میں مددکرتاہے۔ 
ہرآبدوزکی ایک محدودآپریشنل عمرہوتی ہے،جواس کی ہل کی سا  لمیت،سنکنرن مزاحمت اورتھکاوٹ کی حدودپرمنحصرہوتی ہے۔آبدوزپر پانی کادباؤبہت زیادہ ہوتاہے۔مثال کے طور پر300میٹرکی گہرائی میں دباؤسینکڑوں ٹن فی مربع میٹرہوسکتاہے۔اس لئے طویل مدتی دبا کوبرداشت کرنے کیلئے خصوصی مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں،لہذااعلیٰ طاقت سٹیل استعمال کیاجاتاہے،ویلڈنگ اعلی ترین معیار کی ہے اوروقتافوقتامعائنہ ضروری ہے۔اس کے باوجودوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ خوردبینی دراڑیں پیداکرسکتے ہیں،جن کی مرمت کرنا ایک پیچیدہ عمل ہیک یونکہ35سال سے زائدپرانی آبدوزیں اپنی عمر پوری کرچکی تھیں۔نئی ہنگورکلاس محض اضافہ نہیں بلکہ ایک ناگزیرتبدیلی ہے۔
بحرہند میں مختلف بحری افواج اپنی متعلقہ ٹیکنالوجیزکے ساتھ پیچیدہ توازن برقراررکھتی ہیں۔رفتار،اسٹیلتھ،ہتھیاروں کی حد،اورپتہ لگانے کی صلاحیتیںیہ تمام تکنیکی عوامل مل کرایک ایساماحول بناتے ہیں جہاں برتری کاتعین صرف تعدادسے نہیں،بلکہ معیارسے ہوتاہے۔جدیدبحری جنگ میں،تعدادواحدعنصرنہیں ہے،لیکن خاموشی،پتہ لگانے کی حد،ہتھیارکی درستگی،یہ عناصرفیصلہ کن ہیں۔ علاقائی تناظر میں پاکستان نیوی خطے کی قدیم ترین آبدوزآپریٹرہے۔علاقائی توازن برقراررکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کاحصول اس کی روایت کا تسلسل ہے۔
علاقے سے انکار کامطلب دشمن کومکمل طورپرروکنانہیں ہے،بلکہ اس کیلئے کسی مخصوص علاقے میں داخل ہونے کواتناخطرناک بناناہے کہ وہ خودہی اس سے بچ جائے۔خطرہ بننے سے پہلے روک دینایہ دفاعی حکمتِ عملی دشمن کوقریب آنے سے روکنے پرمبنی ہے۔ہنگورکلاس اس نظریے کوتقویت دیتی ہے۔اس حکمتِ عملی کویوں سمجھیں جیسے کسی راستے پرایساخطرہ پیداکردیاجائے کہ کوئی وہاں آنے کی جرأت نہ کرے۔اس کیلئے آبدوزوں کوچوک پوائنٹس،شپنگ لین اوراسٹریٹجک کوریڈورزمیں تعینات کیاجاتاہے تاکہ دشمن کی نقل وحرکت کو محدود کردیاجائے۔یہ آبدوزیں خفیہ کارروائیوں،انٹیلی جنس اورسمندری دفاع میں ایک نئی جہت پیداکرتی ہیں۔آبدوزوں اورہیڈ کوارٹرکے درمیان مواصلات ایک بڑاچیلنج ہے کیونکہ پانی کے اندربات کرنامشکل ہوتاہے اورریڈیولہریں بھی غیرمؤثرہوتی ہیں۔اس کیلئے انتہائی کم فریکوئنسی(ای ایل ایف) یابہت کم فریکوئنسی(وی ایل ایف)سگنلز استعمال کیے جاتے ہیں،جومحدود معلومات منتقل کرتے ہیں لیکن خفیہ رہتے ہیں۔
کسی بھی آبدوزکے بیڑے کی کامیابی اوراس کے پس پردہ نظام کاانحصارنہ صرف اس کی ٹیکنالوجی پرہوتاہے بلکہ اس کی سپلائی چین پربھی ہوتاہے۔مرمت کے مراکز،اسپیئرپارٹس کی دستیابی،دیکھ بھال کی سہولیات اورتربیت یافتہ افرادکی دستیابی ایک مسلسل عمل ہے، جس کے بغیرجدید ترین نظام بھی ناکارہ ہوسکتاہے۔ماضی کی پابندیوں نے یہ سبق دیاکہ دفاعی خودمختاری کیلئے قابلِ اعتماد اتحادی ضروری ہیں۔چین اس تناظرمیں ایک مضبوط ستون ہے۔جب کوئی ملک آبدوزبنانے کی جزوی یامکمل صلاحیت سیکھ لیتاہے  تویہ صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ صنعتی انقلاب ہے۔یہ دھات کاری،الیکٹرانکس،سافٹ ویئرانجینئرنگ اورسسٹم انٹیگریشن جیسے شعبوں میں ترقی کاباعث بنتاہے۔سائنسی تحقیق کوفروغ ملتا ہے اور ملک میں روزگارپیداہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ کراچی شپ یارڈمیں تیاری،انجینیئرزکی تربیت،اورمقامی مہارت کافروغ یہ سب اس منصوبے کومحض خریداری سے بڑھاکر ایک’’قومی سرمایہ‘‘بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔آبدوزوں کامستقبل مزیدخودکارنظاموں،مصنوعی ذہانت اوربغیرپائلٹ کے زیرآب گاڑیوں کی طرف بڑھ رہاہے۔ہنگورکلاس جیسے منصوبے اس مستقبل کی بنیادہیں،جہاں انسان اورمشین کاامتزاج ایک نئی بحری حکمت عملی کوجنم دے گا۔
آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت،بغیرپائلٹ  ذہین آبدوزیں،خودمختارفیصلہ سازی میں اہم کرداراداکریں گی۔نصف صدی پہلے ہنگور ایک کارنامہ تھا،آج ایک نظریہ ہے، خاموشی میں طاقت،صبرمیں حکمت،اورگہرائی میں برتری۔یہ آبدوزصرف ایک ہتھیارنہیں بلکہ پاکستان کی بحری خودمختاری،تکنیکی ترقی اوراسٹریٹجک بصیرت کامظہرہے۔سمندرکی گہرائیوں میں حرکت کرتی ہوئی آبدوزایک ایسی خاموش نظم ہے جس کاہرمصرعہ حساب،ہرلفظ توازن اورہروقفہ حکمت سے لبریزہوتاہے۔اس نظم کاایسانیا باب ہے جس میں تاریخ کی بازگشت،ماضی کی جرأت،حال کی ضرورت اورمستقبل کی امیدایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔تاریخ کے افق پربعض نام محض الفاظ نہیں ہوتے،وہ عہدہوتے ہیں۔ہنگورکلاس آبدوزیں دراصل ایک خاموش انقلاب کی علامت ہیںایساانقلاب جوشورنہیں کرتامگراثررکھتاہے۔یہ فولادکی ساخت سے بڑھ کرایک نظریہ ہے،ایک حکمت ہے،اورایک ایسی قوت ہے جونظرنہ آکربھی تاریخ کادھاراموڑ سکتی ہے۔
 ہنگوریہ محض فولادکاڈھانچہ نہیں بلکہ ایک فکری جہت،ایک قومی عزم اورایک تکنیکی خواب کی تعبیرہے ،سمندرکی خاموشی میں گونجتی یہ بازگشت دراصل ایک قوم کے عزم کی آوازہے۔یہ آبدوزیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اصل طاقت ہمیشہ ظاہرنہیں ہوتی،وہ اکثر گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔