اسرائیل کا مغربی ایران میں اراک ایٹمی مرکز پر حملہ، تابکاری کے اخراج کی تردید

اسرائیل کا مغربی ایران میں اراک ایٹمی مرکز پر حملہ، تابکاری کے اخراج کی تردید

اسرائیل نے وارننگ کے بعد مغربی ایران میں واقع اراک ایٹمی مرکز پر حملہ کر دیا۔

یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کا یہ مرکز تعمیراتی مراحل کے اختتام کے قریب تھا اور آئندہ سال سے فعال ہونے والا تھا۔

 حملے سے قبل وارننگ:
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے سے قبل اسرائیلی ذرائع نے اراک کے رہائشیوں کو خبردار کیا کہ وہ فوری طور پر علاقہ خالی کر دیں۔اس انتباہ کے بعد ایٹمی مرکز کو مکمل طور پر خالی کر لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں۔

 تابکاری کے اخراج کی تردید:
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد اراک ایٹمی مرکز سے کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کے شواہد نہیں ملے۔مرکز کے قریبی علاقوں میں ماحولیاتی نگرانی جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ اثرات کا پتہ چلایا جا سکے۔

 اسرائیلی مؤقف:
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ:اراک ایٹمی مرکز آئندہ سال سے کام شروع کرنے والا تھا۔اس منصوبے کی بابت بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی مطلع کیا جا چکا تھا۔اسرائیل نے یہ حملہ ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنے کے لیے "احتیاطی اقدام" کے طور پر کیا۔
  علاقائی تناؤ میں اضافہ:
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔خطے میں موجود امریکی اور دیگر بین الاقوامی افواج بھی صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں سے ردعمل متوقع ہے۔