ایران میں انٹرنیٹ بندش ختم ہونے والی ہے؟ حکومت کا اعلان سامنے آگیا

ایران میں انٹرنیٹ بندش ختم ہونے والی ہے؟ حکومت کا اعلان سامنے آگیا

ایران میں حکام نے ملک بھر میں دسمبر کے آخر سے جاری احتجاجات کے دوران عائد انٹرنیٹ بندش کے بعد اسے بتدریج بحال کرنے کے لیے غور شروع کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد احتجاجی سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد مرحلہ وار انٹرنیٹ بحالی پر غور کیا جا رہا ہے۔مظاہرے ابتدائی طور پر معاشی مشکلات کے خلاف پُرامن تھے لیکن جلد ہی بڑے احتجاجات میں تبدیل ہو گئے، جنہیں حکومت نے حالیہ برسوں میں سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ ایرانی حکام نے پرتشدد مظاہروں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا۔ احتجاج کے دوران 8 جنوری کو ملک میں مکمل مواصلاتی بندش عائد کی گئی تھی۔اس کے بعد اسکول بھی ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے تھے، مگر اب دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

 ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انٹرنیٹ سروسز کو بتدریج فعال کیا جائے گا، اور ملکی انٹرنیٹ پر موجود مقامی میسجنگ ایپس بھی جلد دوبارہ فعال کی جائیں گی۔ اتوار کی صبح تہران کے بعض علاقوں میں محدود انٹرنیٹ بحال ہوا، تاہم زیادہ تر موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بدستور بند ہیں۔ بین الاقوامی فون کالز اور ٹیکسٹ میسج سروسز چند روز قبل بحال کی جا چکی ہیں۔ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ ایرانی حکام نے بھی اب تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی۔

یہ پیش رفت ایران میں مواصلاتی بندش کے بعد عوامی اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔