بل گیٹس نے انڈیا اے آئی سمٹ میں شرکت سے انکار کا اعلان کیا

بل گیٹس نے انڈیا اے آئی سمٹ میں شرکت سے انکار کا اعلان کیا

بل گیٹس نے انڈیا میں جاری اے آئی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد بھارتی نمائش میں پیدا ہونے والی بدنظمی اور بدانتظامی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

 روئٹرز کے مطابق، بل گیٹس نے جمعرات کو اپنے مقررہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل اس تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا، جس نے اس اہم اجلاس کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔یہ تقریب پہلے ہی شدید بد انتظامی، روبوٹ تنازعے اور ٹریفک کی بندشوں پر مندوبین کی شکایات کے باعث تنقید کا نشانہ بن چکی تھی۔ بل گیٹس کے خطاب سے انکار اور دیگر بڑے رہنماؤں کی بھی شرکت منسوخ ہونے سے اس سمٹ کا ماحول مزید خراب ہو گیا ہے۔ یہ سمٹ گلوبل ساؤتھ میں مصنوعی ذہانت پر پہلی بڑی بین الاقوامی نشست تصور کی جا رہی تھی، جہاں بھارت عالمی اے آئی حکمرانی میں اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اب یہ کوشش بدانتظامی اور تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔ایکس پر (سابقہ ٹوئٹر) پر، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کہا کہ بل گیٹس اپنا خطاب اس لیے نہیں کریں گے تاکہ "توجہ اے آئی سمٹ کی بنیادی ترجیحات پر مرکوز رہے"۔ چند روز قبل فاؤنڈیشن نے ان کی عدم شرکت کی افواہوں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ سمٹ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔

دریں اثنا، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اجلاس سے خطاب کیا، جس میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، گوگل کے سی ای او سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلتمن اور دیگر عالمی رہنما بھی شامل تھے۔ تاہم، بھارتی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے سبب یہ سمٹ تنقید کا نشانہ بن گئی، جس سے شرکا حیران اور ناراض نظر آئے۔ نمائش ہالز کو اچانک بند کر دیا گیا، جس سے اسٹالز قائم کرنے والی کمپنیوں میں غصہ پھیل گیا اور تین روزہ ہجوم بنا رہا۔

بدھ کے روز، بھارتی یونیورسٹی گالگوٹیاز کو اپنا اسٹال خالی کرنا پڑا کیونکہ اس کے ایک عملے نے چین میں تیار کردہ روبوٹک کتے کو اپنی ایجاد کے طور پر پیش کیا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل آیا۔ پولیس نے وی آئی پی شخصیات کی آمد و رفت کے لیے سڑکیں بند کیں، جس سے دہلی شہر میں دو کروڑ سے زائد آبادی میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ شرکاء مرکزی دہلی میں میلوں پیدل چلنے پر مجبور ہوئے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے کوئی انتظامات نہیں تھے۔

اپوزیشن رہنما ماہوا موئترا نے ایکس پر لکھا کہ ناقص انتظامات نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، مگر اس کے باوجود، اس سمٹ کے دوران بھارت میں اے آئی منصوبوں کے لیے 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے ہیں، جن میں اڈانی گروپ، مائیکروسوفٹ اور یوٹا ڈیٹا سینٹر شامل ہیں۔