پشاور: خیبرپختونخوا میں جامعات کے چانسلر کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کو دینے کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
پشاور ہائی کورٹ میں اس درخواست پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس وقار احمد نے کی۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزار کے دلائل:
درخواست گزار کے وکیل، لاجبر خان ایڈوکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے یونیورسٹیز ایکٹ میں ترمیم کرکے جامعات کے چانسلر کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کو دے دیے ہیں، جو کہ غیر آئینی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی غیر قانونی طریقے سے منی بل کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ میں لانا ہے۔ وکیل کے مطابق، گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کا کردار یونیورسٹیوں کو غیر سیاسی رکھنا ہوتا ہے، لیکن اختیارات وزیراعلیٰ کو دینے سے جامعات کے معاملات سیاست زدہ ہو جائیں گے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان ترامیم کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دے۔
عدالت کا حکم:
پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔