کے پی حکومت دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی: گورنر کنڈی

  میں وزیراعلیٰ ہوتا تو 24گھنٹے میں کرم میں امن قائم کرلیتا،شیر افضل مروت ایک سچے سیاسی کارکن ہیں

 صوبے کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا، نوجوان اپنی ثقافت کی ترویج کے لیے راستے تلاش کریں ،انٹرویواورخطاب 
 پشاور(آئی این پی )گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ ہوتے تو 24گھنٹوں کے اندر کرم میں امن قائم کر لیتے، حکومت دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تنقید کی اور کہاکہ اگر وہ وزیر اعلیٰ ہوتے تو کرم کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوہاٹ میں موجود رہتے اور اس وقت تک واپس نہ آتے جب تک حالات معمول پر نہ آ جاتے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا پر کھڑے ہو کر دعوے تو بہت کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرم کے 25 کلومیٹر سڑک پر بھی امن قائم نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو دہشتگردوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ گورنر نے الزام لگایا کہ اگر صوبے کو دہشتگردوں کے حوالے نہ کیا جاتا اور 40ہزار دہشتگردوں کو واپس نہ لایا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں سرکاری عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں میں کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کام پیسوں کے عوض کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری عہدوں پر رشوت کے ذریعے تعیناتیاں کی جا رہی ہیں تو پھر حکمران اسمبلی میں فوج کے خلاف باتیں کیوں کرتے ہیں اور قراردادیں کیوں پاس کراتے ہیں؟۔دریں اثناء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  گورنرفیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا ۔ہمیں اپنی ثقافت پر فخر ہے ۔ نوجوان اپنی ثقافت کی ترویج کے لیے راستے تلاش کریں ۔