روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات اب ایک بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں، اور دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
پیوٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات کو بڑھاتے رہیں گے، جس سے عالمی سیاست میں ان کی طاقتور موجودگی کو مزید تقویت ملے گی۔
یوکرین جنگ:
پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں اپنے بنیادی مقاصد کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس یوکرینی فوج کو اپنے علاقے سے باہر نکال دے گا اور امریکہ کے ساتھ میزائل مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ روس نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نئے ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کا بھی ذکر کیا، جو ان کے مطابق کسی بھی امریکی میزائل دفاعی نظام کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شام:
پیوٹن نے شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کے ارادے کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ملاقات کے دوران شام میں لاپتا امریکی صحافی کے بارے میں سوالات کریں گے۔ پیوٹن نے مزید کہا کہ روس نے شام میں اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں اور شام سے 4 ہزار ایرانی جنگجوؤں کا انخلا کرایا ہے۔ روس شام میں تمام گروپوں سے تعلقات رکھتا ہے اور شراکت داروں کو روسی ایئر اور نیول بیس کو انسانی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔
نیٹو اور امریکہ:
روسی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ عملی طور پر تمام نیٹو ممالک روس کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن روس نے شام میں اپنی فوجی موجودگی کے دوران اپنے مقاصد کو حاصل کیا اور وہاں شکست نہیں ہوئی۔
یوکرین کی دہشت گرد کارروائیاں:
پیوٹن نے یوکرینی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ روسی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ وہ یوکرین کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن دوسری جانب کو بھی تیار ہونے کی ضرورت ہے۔یہ بیان روسی صدر کی عالمی سطح پر روس کی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جو عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔