وفاقی حکومت کی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست

وفاقی حکومت کی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اسلام آباد کے الشفاء اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔

نظرثانی کی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت عظمیٰ سے گزشتہ روز جاری کیے گئے حکم پر دوبارہ غور کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے کیا حکم دیا تھا؟
گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی بہنوں اور دیگر افراد کی ملاقات، جبکہ ذاتی معالج تک رسائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کو اسلام آباد کے الشفاء اسپتال منتقل کیا جائے۔عدالت نے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔تاہم اب وفاقی حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی حکم میں جیل قوانین اور قیدیوں کی اسپتال منتقلی سے متعلق مقررہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا۔

جیل رولز کا حوالہ
چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 میں قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔درخواست کے مطابق سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے حکم میں جیل رولز کے متعلقہ قواعد کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ رول 197 کے تحت قیدی کی اسپتال منتقلی کے لیے مخصوص قانونی طریقہ کار مقرر ہے۔درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ جیل رولز کو نظر انداز کرتے ہوئے حکم جاری کرنا ریکارڈ پر موجود ایک نمایاں قانونی خامی ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

آرٹیکل 10 اے کا بھی حوالہ
وفاقی حکومت نے اپنی درخواست میں آئین کے آرٹیکل 10 اے کا بھی حوالہ دیا ہے، جو منصفانہ ٹرائل کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کیے بغیر حکم صادر کیا گیا، جبکہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے بھی سنجیدہ قانونی نکات موجود تھے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے ان قانونی نکات کو موخر کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر عبوری حکم جاری کیا۔

عبوری حکم پر اعتراض
نظرثانی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کے مطابق عدالت کی جانب سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم عبوری نوعیت کی کارروائی میں حتمی نوعیت کے ریلیف کے مترادف ہے۔وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ گزشتہ روز جاری کیے گئے حکم کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور متعلقہ قانونی و انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔اب نظرثانی درخواست پر سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی اہمیت اختیار کرگئی ہے، جہاں عدالت حکومت کے مؤقف اور عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق اپنے سابقہ حکم کا جائزہ لے گی۔