پنکی کی حفاظت کیلئے سندھ پولیس کا خصوصی سیکیورٹی پلان، احکامات جاری

پنکی کی حفاظت کیلئے سندھ پولیس کا خصوصی سیکیورٹی پلان، احکامات جاری

سندھ پولیس نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اور سخت حفاظتی پلان نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت بغدادی تھانے کے لاک اپ اور اطراف کو ہائی الرٹ قرار دے دیا گیا ہے۔

ایس ایس پی جنوبی کے دفتر سے جاری احکامات کے مطابق ملزمہ کی حفاظت کے لیے ایک ایس پی، دو ایس ڈی پی اوز، تین ایس ایچ اوز اور 40 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اہلکار دو شفٹوں میں فرائض انجام دیں گے، پہلی شفٹ صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک جبکہ دوسری شفٹ رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک جاری رہے گی۔ حکام نے لیڈی پولیس اہلکاروں کی 24 گھنٹے موجودگی بھی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔پولیس کے مطابق لاک اپ اور اس کے اطراف کی مسلسل سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جبکہ تھانے کی عمارت اور اطراف کی چھتوں پر سنائپرز بھی تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔حکم نامے میں عدالت منتقلی کے دوران غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ انمول عرف پنکی کو عدالت لے جانے اور واپس لانے کے لیے خصوصی موبائل اسکواڈ مقرر کیے گئے ہیں جبکہ ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس فراہم کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو فراہم کیے جانے والے کھانے کی مکمل چیکنگ کی جا رہی ہے جبکہ بجلی کی ممکنہ بندش سے نمٹنے کے لیے بیک اپ جنریٹر ہر وقت فعال رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔بغدادی تھانے کے داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ایس پی لیاری سب ڈویژن کو عدالت منتقلی آپریشن کی نگرانی سونپی گئی ہے جبکہ ایس ڈی پی او بغدادی اور رسالہ کو موبائل اسکواڈ سمیت کمانڈ دی گئی ہے۔ ایس ایچ او بغدادی، رسالہ اور گارڈن کو گراؤنڈ انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ایس ایس پی جنوبی کے دفتر سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ہنگامی صورتحال کی فوری رپورٹ دی جائے اور فوری رسپانس ٹیمیں ہر وقت الرٹ رہیں۔ حکام کے مطابق دورانِ حراست صرف مجاز افراد کو ہی انمول عرف پنکی تک رسائی دی جائے گی۔