سٹور سے 92 کروڑ کا چلغوزہ ’’ غائب‘‘

 سٹور مالکان نے چلغوزہ چوری کیا اور مزدور کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ، انصاف دلوایا جائے:چلغوزہ ٹریڈ ایسوسی ایشن 
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور کے بدمعاش گروہ نے سادہ لوح کاروباریوں کے ساتھ لاہور کی تاریخ کی سب سے بڑی نوسربازی کر ڈالی، لاہور پولیس، وزیراعلیٰ ، کسٹم کے اعلیٰ حکام اور وفاقی ادارے اس ہولناک چوری اور نوسربازی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ لاہور کے دو وکیلوں اور ان کے بھائیوں نے اپنے کولڈ سٹوریج پر رکھوایا گیا بانوے کروڑ روپے مالیت کا چلغوزہ چوری کر لیا اور الٹا مظلوم کاروباری مدعیوں کو ہی مصیبتوں میں پھنسا دیا، ان کا ڈیڑھ اربے روپے مالیت کا چلغوزہ سربمہر کروا دیا۔ ۔چلغوزہ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداروں نے لاہور پریس کلب مین نیوز کانفرنس کر کے لاہور شہر کی اس تواریخی نوسربازی کی کہانی سنا دی، انہوں نے بتایا کہ یہ ملزم مقدمہ میں اشتہاری ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کرنے میں دلچسپی ہی نہیں لیتی۔چلغوزہ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہا کہ ہم آئی جی پنجاب سیمسروقہ مال برآمدگی کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئی جی سے انصاف نہ ملاتو وہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہردھرنادیں گے۔ انہوں نے کہا ہم لاہور میں پچھلے 40 سالوں سے چلغوزے کا کاروبار کرتے ہیں اور ہمارے ملک کے لوکل چلغوزہ کو ہم ایک قانونی طریقہ کار کے مطابق لاہور میں لے کر اتے ہیں اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی لے کر جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، سات ماہ پہلے لاہور میں عامر روڈ پر واقع کشمیر کو سٹوریج میں ہمارا بانوے ٹرم چلغوزہ پڑا ہوا تھا جس کو سٹوریج کے مالکان کامران بٹ، عمران بٹ، بدر بٹ ایڈوکیٹ، جمیل بٹ ایڈوکیٹ اور ان کے بھائیوں نے چوری کر لیا جس کی کل مالیت 92 کروڑ روپے بنتی ہے۔پھر یہ تماشا ہوا کہ چلغوزہ خورد برد کرنے والوں نے بعد میں خود ہی مدعی بن کر اپنے ایک مزدور کے خلاف چوری کی ایف آئی آر کٹوائی۔ انہوں نے اپنے ہی ایک منشی کو مدعی بنایا اور ایک لیبر کو ایک مزدور کو انہوں نے ملزم بنایا پھر تفتیش ہوئی جس میں وہ کسروار پائے گئے پھر سی ائی اے میں بھی تفتیش ہوئی جس میں وہی قصور وار پائے گئے۔مسروقہ مال کے بدلے کم مالیت کی پراپرٹی دینے کے نام پر جعلسازی بعد میں ہمارا اور ان کے درمیان 73 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ایک معاہدہ سٹیمپ پیپر پر دے پایا جس میں ان کے دستخط اور انگوٹھا جات بھی ثبت ہیں جس میں انہوں نے ہمیں 40 کروڑ روپے کا ایک سٹور دینا تھا اور بقایہ 33 کروڑ 60 لاکھ روپے انہوں نے ہمیں دینے تھے معاہدہ کے مطابق الزام علیحان ہے ہمیں ٹوٹل 90 مرلے کی 10 رجسٹریاں دینی تھی جس میں سے دو رجسٹرا 17 مرلے رقبہ کی دے دی جبکہ جبکہ بقیات 73 مرلہ کی اٹھ رجسٹرا دینے سے صاف انکار کر دیا۔ملزموں نے ہمیں مزید نقصان پہنچانے کے لیے ہمارے خلاف کسٹم کو کسٹم والوں کو مخبری کر کے ہمارے ایک دوسرے سٹور جس کا نام زین کول سٹوریج ہے اس میں ہمارے ڈیڑھ ارب کے مال کو غیر قانونی طور پر سیل کروا دیا جو ابھی تک وہ پڑا ہوا ہے۔ہم وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز اور آئی جی اور ائی جی پنجاب جناب ڈاکٹر عثمان انور سے درخواست کرتے ہیں کہ ان لوگوں سے ہماری ریکوری یقینی بنائیں اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے ہم لاہور بار لاہور ہائی کورٹ بار سے درخواست کرتے ہیں کہ یہ دو وکیل بدر بٹ اور جمیل بٹ جو آپ کے ممبرز ہیں لہذا ان کو آپ سمجھائیں کہ ہماری چوری شدہ رقم واپس کروا دیں۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم سی ایم ہا¶س کے سامنے دھرنہ دیں گے اور اس وقت تک بیٹھے رہیں گے جب تک ان لوگوں نسے ہماری رقم واپس نہ دلوائی گئی۔