علیمہ خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بھائی، پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے مقدمات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جج صاحب کی ذمے داری ہے کہ انصاف فراہم کریں اور قانون کا تماشہ نہیں بننا چاہیے۔ علیمہ خان نے 5 اکتوبر کے کیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس دن پیش ہونے والی ہیں، لیکن اس سے پہلے 4 اکتوبر کو انہیں اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا تھا۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ دورانِ سماعت تفتیشی افسر موجود نہیں تھے اور اس پر انھیں شدید تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد سے لاہور آکر مقدمے کی پیشی میں شریک ہو رہے ہیں، لیکن تفتیشی افسر کی غیر موجودگی پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، نہ ہی ان کے خلاف کوئی نوٹس لیا جا رہا۔ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ جب ملزم پیش نہیں ہوتا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے، لیکن جب تفتیشی افسر نہیں آتا تو اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔علیمہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج وہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گی تاکہ انہیں ہر حال میں رہنمائی دے سکیں اور ان کے ساتھ حالات پر بات چیت کر سکیں۔ ان کا مقصد انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا اور یہ یقین دلانا تھا کہ ان کے بھائی کو سیاسی طور پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا نہ ہو۔