سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
امارات جانتاہے کہ کھلے عام قربت ایران کے ساتھ تعلقات کوکشیدہ کرسکتی ہے۔اس لیے امارات کی پالیسی گویااس اصول پرقائم ہے کہ توازن قائم رکھتے ہوئے تعلقات رکھو،یہی وجہ ہے کہ امارات نے یہ پالیسی بنارکھی ہے کہ فائدہ حاصل کرو،مگرشورنہ مچا۔ادھرنیتن یاہوکی سیاست میں ایک مستقل عنصریہ رہاہے کہ داخلی چیلنجزکاجواب خارجی کامیابیوں سے دیا جائے۔جب اپوزیشن مضبوط ہو،یا عوامی اعتمادمتزلزل ہو،تو بیرونی دنیامیں کامیابیوں کاتاثرپیداکرناایک آزمودہ حربہ ہوتاہے۔
یہ اطلاعات گویاایک ایسادھندلاآئینہ ہیں جس میں ہرفریق اپنی مرضی کی تصویردیکھ رہاہے۔مغربی میڈیا کی رپورٹس ایک ایساآئینہ ہیں جس میں حقیقت کبھی صاف اورکبھی دھندلی نظر آتی ہے۔مغربی میڈیاکی رپورٹس اس بیانیے کومزیدپیچیدہ بناتی ہیں۔ہر رپورٹ اپنے ساتھ ایک زاویہ لے کرآتی ہے،اورہرزاویہ حقیقت کے ایک نئے رخ کوظاہرکرتاہے۔ اس ساری کہانی میں سعودی عرب کا کرداربظاہرخاموش ہے،مگردرحقیقت نہایت اہم ہے۔اسرائیل کیلئے اصل ہدف ہمیشہ ریاض رہاہے،کیونکہ اس کے ساتھ تعلقات پورے عرب واسلامی دنیامیں ایک بڑی تبدیلی کاباعث بن سکتے ہیں۔یہ اعلان شایداسی سمت ایک نفسیاتی دباڈالنے کی کوشش تھا۔
یہ تردیددراصل طاقت بطوردفاعی ہتھیارکااظہاراورایک ڈھال تھی،ایسی ڈھال جونہ صرف سیاسی ساکھ کومحفوظ رکھتی ہے بلکہ علاقائی توازن کوبھی برقراررکھتی ہے۔امارات نے واضح کیاکہ وہ کسی اورکے بیانیے کاحصہ بننے کیلئے تیارنہیں۔اگرامارات کوایک خفیہ اتحادی کے طورپرپیش کیاجائے تواس کے کئی نتائج ہوسکتے ہیں۔داخلی سطح پرعوامی ردعمل،علاقائی سطح پر اعتمادمیں کمی اوربین الاقوامی سطح پرکردارکی تبدیلی کااظہارمحسوس کیاجائے گا،اسی لیے اس تصورکوفوری طورپرردکرناضروری تھا۔اگریہ دورہ تسلیم کرلیاجاتاتوامارات کاتشخص ایک پردہ نشین اورایک خفیہ اتحادی کیطورپرپیش ہوتا۔تردیدنے اس امکان کوختم کردیا اوراسے ایک خودمختارریاست کے طورپربرقراررکھا۔آج کی سفارت کاری شدت پسندنہیں رہی بلکہ انتہائی لچکدارہوچکی ہے۔ریاستیں بیک وقت مخالف قوتوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہیں اوراپنے مفادات کے مطابق انہیں استعمال کرتی ہیں۔امارات نے درپردہ یہ تاثردینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اسی نئی سفارت کاری کی ایک مثال ہے لیکن وہ فی الحال ان تعلقات کوآہنی پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کررہاہے لیکن خوداسرائیل نے اس پردہ کوچاک کردیاہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب حساس تعلقات کوسیاسی فائدے کیلئیاستعمال کیاگیاہو۔ان کی سیاست میں سفارتی انکشافات ایک آزمودہ ہتھیار رہے ہیں۔ان کی سیاست میں بیانیہ سازی ایک فن کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں سچ وہی ہوتاہے جومان لیاجائے۔اگر واقعی اماراتی قیادت کویہ محسوس ہواکہ اسرائیل نے اس اعلان کے ذریعے ایک حدپارکی ہے تویہ اس بات کی علامت ہے کہ خفیہ تعلقات کی بھی کچھ حدودہوتی ہیںاوران حدودکااحترام ضروری ہے۔
اسرائیل میں داخلی بحران اورآئندہ انتخابات اورسیاسی عدم استحکام نے اس بیانیے کوجنم دیاہے۔جب گھرمیں چراغ مدھم ہوتوباہرکی روشنی دکھاناضروری سمجھاجاتاہے۔جب داخلی سطح پراختلافات بڑھ جائیں توبیرونی محاذکونمایاں کرناایک آزمودہ نسخہ ہوتاہے۔یہی حکمت عملی یہاں بھی کارفرمانظرآتی ہے۔اس طرح کے واقعات بعض اوقات اعتمادکومتاثر کرتے ہیں۔اگرایک فریق دوسرے کے خفیہ روابط کواپنے سیاسی مفادکیلئے استعمال کرے تویہ مستقبل کے تعلقات کیلئے خطرہ بن سکتاہے۔
خلیج کاپوراخطہ اس وقت ایک نازک توازن پرقائم ہے۔یہاں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھاناپڑتاہے،کیونکہ ایک غلط قدم پورے خطے کوعدم استحکام کی طرف دھکیل سکتاہے۔نیتن یاہوکا امارات کاخفیہ دورہ کایہ اعلان دراصل ایک سفارتی سرگوشی تھاایساپیغام جوبراہِ راست نہیں مگرگہرے اثرات کاحامل ہے۔یہ اعلان ریاض کیلئے ایک اشارہ تھاکہ اگرابوظہبی آگے بڑھ سکتاہے،توتم کیوں نہیں؟
ریاستیں چاہے جتنی بھی طاقتورہوں،وہ عوامی رائے کومکمل طورپرنظراندازنہیں کرسکتیں۔اسی لیے بعض فیصلے پس پردہ رکھے جاتے ہیں تاکہ عوامی ردعمل سے بچاجاسکے۔اس لئے یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں بارہادہرائی گئی ہے۔مقصد ہمیشہ ایک ہی رہاہے،عرب دنیامیں اختلافات کوبڑھاکراسرائیل اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرناچاہتا ہے ۔اسرائیل کی تقسیم کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ اختلاف پیداکرواوراثربڑھا۔
ایک طرف نظریاتی سطح پر فلسطینی مسئلہ اورعرب یکجہتی کی بات ہوتی ہے،اوردوسری طرف عملی سطح پرمفادات کے تحت تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔یہ تضادجدیدمشرقِ وسطی کی سیاست کاایک بنیادی پہلوہے۔اس ماحول میں انورقرقاش کابیان ایک فکری توازن کی عکاسی کرتاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ خطہ تصادم سے نہیں بلکہ تعاون سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ان کابیان گویاایک فکری چراغ ہے جو اس ہنگامہ خیزماحول میں توازن کی راہ دکھاتاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ طاقت کے ساتھ ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔
جدیدسفارت کاری میں سچ اوربیانیہ دوالگ حقیقتیں ہیں۔کبھی یہ ملتی ہیں اورکبھی ایک دوسرے کے متوازی بہتی رہتی ہیں۔امارات کی تردیداوراسرائیل کااعلاندونوں اپنی اپنی جگہ ایک سچ ہیں،مگرمکمل حقیقت ان کے درمیان کہیں پوشیدہ ہے۔یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتاہے کہ آنے والے وقت میں سیاست میں حقیقت سے زیادہ بیانیہ اہم ہوگا۔جو ریاست اپنے بیانئے کوبہتراندازمیں پیش کرے گی،وہی عالمی سطح پرزیادہ مؤثرثابت ہوگی۔
یہ پوراواقعہ ہمیں اس حقیقت سے آشناکرتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسی داستان ہے جس میں ہرکرداراپنے اپنے سچ کے ساتھ موجودہے۔یہ پورامعاملہ ہمیں جہاں اس حقیقت سے بھی روشناس کراتاہے کہ آج کی دنیامیں سیاست صرف طاقت کاکھیل نہیں بلکہ تاثر،بیانیہ اورنفسیات کابھی میدان ہے وہاں یہ سارامعاملہ ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتاہے کہ مشرقِ وسطی کی سیاست محض واقعات کامجموعہ نہیں بلکہ مفادات،خوف،امیدوں اورحکمتوں کاایک پیچیدہ جال ہے۔یہاں لفظ محض اظہارنہیں بلکہ طاقت ہے،اور خاموشی محض سکوت نہیں بلکہ ایک مکمل بیان ہے اوریہاں ہرلفظ ایک ہتھیاراورہرلفظ تول کربولاجاتاہے،ہرخاموشی ایک حکمت اور ایک اہم پیغام،اورہرتردیدایک نئی کہانی کی ابتد ا اورایک نئی تصدیق کادروازہ کھولتی ہے۔
گویامشرقِ وسطی ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات کبھی مکمل نہیں ہوتے ،ہرواقعہ ایک نئی سطرلکھتاہے،اورہرسطراپنے اندر کئی معنی چھپائے ہوتی ہے۔یہ خطہ ایک ایسی داستان ہے جس کاہرباب ادھوراہے،اورہرکرداراپنے اپنے سچ کے ساتھ اس کہانی کوآگے بڑھارہاہے۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے یہ خطہ ایک عظیم الشان داستان کااسٹیج اورسیاست کی ایک ایسی تہذیبی تمثیل ہے،جہاں پردے گرتے بھی ہیں اوراٹھتے بھی،مگرکہانی کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ہرواقعہ ایک نئے باب کی تمہیدبن جاتاہے،اورہرتردیدایک نئی حقیقت کو جنم دیتی ہے ۔تاہم تردیدکے پردے میں بھی یواے ای خودکوچھپانے میں مکمل طورپر ناکام نظرآرہاہے اوراس کی نئی داخلی اورخارجہ پالیسیاں مستقبل میں مزیدتنہائیوں کاخوفناک طوفان تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔