پردہ و بیانیہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست محض واقعات کی قطارنہیں بلکہ معانی کاایک سمندرہے ایساسمندرجس کی سطح پرلہریں دکھائی دیتی ہیں مگراس کی گہرائیوں میں تہذیب،طاقت،خوف اورمفاد کے ایسے بہاجاری ہوتے ہیں جن تک رسائی ہرنگاہ کونصیب نہیں ہوتی۔خطہ کی سیاست ہمیشہ سے رازونیاز،مصلحت ومکراورظاہروباطن کی ایک پیچیدہ داستان رہی ہے۔یہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتابلکہ اشارہ بن جاتا ہے،اورخاموشی کبھی کبھی بلندترین اعلان سے زیادہ معنی خیزہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کواگرایک تمثیل میں سمویاجائے تویہ ایک ایسادبیز پردہ ہے جس کے پیچھے کردارمسلسل حرکت میں ہیں،مگرسامنے صرف سائے دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں فیصلے بندکمروں میں ہوتے ہیں اوراعلانات کھلے میدانوں میںاوراکثران دونوں کے درمیان فاصلہ اتناہوتاہے کہ حقیقت اورتاثر دوالگ دنیائیں بن جاتی ہیں۔حالیہ قضیہ اسرائیلی وزیاعظم کے مبینہ خفیہ دورے اورمتحدہ عرب امارات کی فوری اوردوٹوک تردیدکا معاملہ بھی اسی دوئی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔یہ محض ایک خبریااس کی تردیدنہیں بلکہ طاقت،بیانیہ،علاقائی توازن اورنفسیاتی سفارت کاری کاایک پیچیدہ مرکب ہیاسی داستان کاایک نیاباب ہے،جس میں سیاست کے پردے کے پیچھے کئی پرتیں جھلکتی ہیں۔ نیتن یاہو کاخفیہ دورہ اسی سمندرکی ایک پرشورموج ہے،جس کے نیچے کئی خاموش دھارائیں اپناراستہ بنارہی ہیں ۔
سیاسی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بعض اوقات واقعہ خوداہم نہیں ہوتابلکہ اس کااعلان زیادہ معنی رکھتاہے،یہاں بھی یہی ہوا۔سوال یہ نہیں کہ دورہ ہوایانہیںبلکہ یہ کہ اس کااعلان اس وقت کیوں کیاگیا؟یہ وہ لمحہ تھاجب اسرائیل داخلی طورپردباکاشکارتھا،اورعلاقائی سطح پرخودکوتنہامحسوس کررہاتھا۔ایسے میں ایک خفیہ سفارتی کامیابی کااعلان ایک نفسیاتی حربہ بن جاتاہیایک ایساحربہ جوعوام کویہ باورکراتاہے کہ قیادت اب بھی حالات پرقابض ہے۔
دوگھنٹوں کے اندراندربیانیہ بدل جانااس بات کی دلیل ہے کہ جدیدسفارت کاری میں وقت بھی ایک ہتھیارہے۔امارات کی وزارت خارجہ نے جس سرعت سے ردعمل دیا،وہ دراصل ایک پیشگی دفاع تھاایک ایساحصارجس میں داخل ہوکرکوئی دوسرابیانیہ اثراندازنہ ہو سکے۔اسرائیلی دفترسے اعلان اورصرف دوگھنٹوں بعداماراتی تردیدیہ تیزی محض ردعمل نہیں بلکہ پیش بندی تھی۔یہ محض ایک خبرکی تردیدنہ تھی بلکہ خودمختاری کاایک سفارتی اعلان تھاکہ ابوظہبی اپنی خارجہ پالیسی کابیانیہ خودتحریرکرے گا۔گویاابوظہبی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا،ہماری زمین پرہونے والی ہرکہانی،ہماری اجازت سے لکھی جائے گی اورہماری سفارت کاری کی کتاب،کسی اورکے قلم سے نہیں لکھی جاسکتی۔ 
متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی گزشتہ دہائی میں ایک نئے سانچے میں ڈھلی ہے۔یہ پالیسی نہ تومکمل خاموشی پرمبنی ہے اورنہ ہی مکمل اعلانیہ صف بندی پر بلکہ یہ ایک درمیانی راہ ہے جسے محسوس مگرغیر مرئی سفارت کاری کہاجاسکتاہے۔اسی لیے جب اسرائیلی اعلان نے اس توازن کوتوڑنے کی کوشش کی توامارات نے فوراردعمل دیا۔یہ ردعمل دراصل ایک اصول کادفاع تھاکہ تعلقات ہو سکتے ہیں،مگران کی تشہیرہماری شرائط پرہوگی۔
اسرائیل کے اعلان میں جہاں داخلی سیاست کی بواوراضطراب جھلکتاہے،وہیں سعودی عرب کیلئے ایک نہائت اہم  اشارہ بھی پوشیدہ ہے  ایک ایسااشارہ جوبظاہرنرم مگرمعنوی طور پرنہایت گہراہے یعنی سعودی عرب کیلئے ایک اہم خاموش پیغام بھی پوشیدہ تھا،دیکھو!راستے کھل چکے ہیں،اب تم پرہے کہ قدم بڑھاؤیاٹھہرجاؤ۔
جب ایک امارتی محقق اورنامورپروفیسر اس بیانیے کو تخیل کی تصویر قراردیتاہے تویہ محض رائے نہیں رہتی بلکہ ایک فکری مورچہ بن جاتی ہے۔اماراتی پروفیسرکی تردیددراصل ریاستی مؤقف کی علمی توثیق تھی۔یہاں علم،سیاست کادست وبازوبنتاہے اوربیانیے کوجواز فراہم کرتاہے انہوں نیاس بیانیے کوسیاسی تخیل قراردیکریہ واضح کیاکہ بعض اوقات سیاست دان حقیقت سیزیادہ افسانہ نگارہوتے ہیں۔
خلیجی ریاستیں خصوصا امارات اورسعودی عرب،اپنی خارجہ پالیسی میں ایک خاص نفسیاتی توازن برقراررکھتی ہیں۔وہ بیک وقت تین سطحوں پرکھیل رہی ہوتی ہیں۔عوامی سطح پرعرب واسلامی تشخص،عملی سطح پرمغربی واسرائیلی تعاون اورعلاقائی سطح پرایران کے ساتھ کشیدگی کاتوازن۔وہ تینوں دائروں کوبیک وقت سنبھالناایک نازک فن ہے۔اسی لیے کسی بھی خفیہ تعلق کا قبل ازوقت انکشاف اس پورے توازن کوبگاڑسکتاہے۔
زیو اگمون کی تصدیق ایک اورکہانی سناتی ہے جوایک دلچسپ تضاد کوجنم دیتی ہے۔ان کے بیان میں جوشان وشوکت اوشاہی استقبال کا ذکرہے،وہ دراصل اسرائیلی عوام کیلئے ایک نفسیاتی تسکین اورذہنی مرہم ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ واقعہ ہوایانہیںسوال یہ ہے کہ اسے کیوں سنایاگیا؟دراصل حقیقت میں یہ وہ ضرورت جوایک سیاسی رہنماکواپنے بیانیے کے استحکام کیلئے درکارہوتی ہے۔اسرائیل کیلئے سب سے بڑاخطرہ صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی تنہائی بھی ہے۔اگرعرب دنیاکے ساتھ تعلقات کومعمول پرلانے کاتاثرقائم ہوجائے تویہ اس کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے اعلانات کے ذریعے یہ پیغام دیاجاتاہے کہ ہم تنہانہیں،بلکہ خطے کے اہم کھلاڑی ہمارے ساتھ ہیںچاہے وہ کھل کرنہ بھی کہیں۔
اس پورے معاملے کوایران کے بغیرسمجھناممکن نہیں۔ایران نہ صرف ایک علاقائی طاقت ہے بلکہ ایک نظریاتی قوت بھی ہے،جس کے ساتھ خلیجی ریاستوں کاتعلق کشیدگی اورمجبوری کے درمیان جھولتارہتاہے۔امارات اگراسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کوزیادہ نمایاں کرے تویہ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کوجنم دے سکتاہے۔اسی لیے تردید ایک سفارتی ضرورت بن جاتی ہے۔یہاں ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات اس خاموش کشمکش کی علامت ہیں جوخلیج میں زیرِسطح بہہ رہی ہے۔گویا اس داستان کا وہ باب ہیں جو بظاہر الگ مگردرحقیقت مرکزی حیثیت رکھتاہے۔خلیج کی سیاست میں ایران ایک ایساکردارہے جس کی موجودگی ہرفیصلے کے پس منظرمیں سایہ فگن رہتی ہے۔یہ خطہ اب صرف جغرافیہ نہیں رہابلکہ ایک شطرنج کی بساط بن چکاہے جہاں ہرچال کئی سمتوں میں اثرڈالتی ہے۔
یروشلم کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان داخلی سیاست کاحربہ دباؤکاشاخسانہ تھا۔جب قیادت دباؤمیں ہوتووہ بیرونی کامیابیوں کے افسانے تراش کرداخلی کمزوریوں کوڈھانپنے کی کوشش کرتی ہے۔جب سیاسی زمین کھسکنے لگے تورہنمابیرونی کامیابیوں کی کہانیاں تراشتے ہیں تاکہ عوامی اعتمادکوسہارادیاجاسکے۔یہ پہلاموقع نہیں کہ خفیہ دوروں یاپس پردہ ملاقاتوں کی خبریں سامنے آئی ہوں۔خفیہ سفارت کاری کی تاریخ میں اس کی بے شمارمثالیں موجودہیںمصراوراسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈمعاہدے سے پہلے کی خفیہ ملاقاتیں ہوں یااوسلومعاہدے کی پس پردہ گفت وشنید،فرق صرف یہ ہے کہ آج کے دورمیں میڈیا کی رفتارنے رازوں کوزیادہ دیرتک رازرہنے نہیں دیا۔
انتخابات قریب ہوں توہرخبرایک ہتھیاربن جاتی ہے۔نیتن یاہوکیلئے یہ اعلان محض اطلاع نہ تھابلکہ ایک سیاسی مہم کاحصہ تھا۔ایک ایسا تاثر کہ وہ اب بھی عالمی سطح پرموثراورمتحرک ہیں۔یہ اعلان انتخابی موسم کی پیداوارمعلوم ہوتاہے۔نیتن یاہوکیلئے یہ ضروری تھاکہ وہ خودکوایک ایسے رہنماکے طورپرپیش کریں جوعرب دنیاکے دروازے کھول رہاہے۔آج کا میڈیا محض اطلاع کاذریعہ نہیں بلکہ بیانیہ سازی کاایک طاقتورہتھیارہے۔اسرائیلی میڈیا،مغربی میڈیااورعلاقائی میڈیاہرایک اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق خبرکوپیش کرتاہے۔اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ ہم جوکچھ پڑھتے یاسنتے ہیں،وہ حقیقت ہے یاکسی خاص زاویے سے پیش کی گئی تصویر؟
آئرن ڈوم کاذکراس تعلق کی گہرائی کوظاہرکرتاہے جوسطح پرمکمل طورپرعیاں نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اورسلامتی ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتے ہیں۔اگر واقعی امارات کے دفاع میں اسرائیلی نظام استعمال ہواتویہ تعلقات کی گہرائی کوظاہرکرتاہے،مگریہی وہ نکتہ ہے جسے ابوظہبی عوامی سطح پراجاگرنہیں کرناچاہتا۔یادرہے کہ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ ساکھ سے بھی چلتی ہیں۔ امارات نے گزشتہ برسوں میں خودکوایک معتدل،خودمختاراورجدیدریاست کے طورپرپیش کیاہے۔اگروہ کسی جنگ میں خفیہ شریک کے طورپر سامنے آتاتواس کی یہ ساکھ متاثرہوسکتی تھی۔اسی لیے تردیددراصل اپنی عالمی شناخت کاتحفظ تھی۔(جاری ہے)