کولمبیا کی شورش زدہ سرحد کے قریب بائیں بازو کے گوریلا جنگجوؤں کے پرتشدد حملوں میں کم از کم 39 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
حملوں کی تفصیلات
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، ان حملوں کی ذمہ داری کولمبیا کے نیشنل لبریشن آرمی (ELN) پر عائد کی گئی ہے، جنہوں نے دو الگ الگ کارروائیوں میں دیگر باغی گروہوں اور نیم فوجی گینگز کو نشانہ بنایا۔
نارتھ اسینٹینڈر ڈپارٹمنٹ میں حملہ:
ELN کے جنگجوؤں نے کولمبیا کی ریولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا (FARC) کے منحرف ارکان کو متعدد دیہاتوں اور کھیتوں میں نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
دوسرا واقعہ:
ایک اور حملے میں ELN نے طاقتور نیم فوجی کرمنل گینگ کو نشانہ بنایا، جس سے مزید ہلاکتیں ہوئیں۔
امن مذاکرات کی معطلی
کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے ان حملوں کے بعد ELN کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ELN پر جنگی جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے امن قائم کرنے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
حکومتی ردعمل
حکومت نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ کارروائیاں امن عمل کے خلاف ہیں۔ صدر پیٹرو نے کہا کہ یہ تشدد اس امید کو ختم کرتا ہے کہ مسلح گروہ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالیں گے۔
پس منظر
کولمبیا طویل عرصے سے داخلی تنازعات کا شکار ہے، جہاں مختلف باغی گروہ، منشیات فروش گینگ، اور نیم فوجی تنظیمیں متحرک ہیں۔ حکومت اور ELN کے درمیان امن مذاکرات کئی سالوں سے جاری ہیں، لیکن یہ تازہ حملے مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
مستقبل کے امکانات
حالیہ واقعات کے بعد کولمبیا میں امن کے امکانات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ELN کے خلاف سخت کارروائی متوقع ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔مزید تفصیلات حکومت کے آئندہ اقدامات اور حالات کی پیش رفت کے ساتھ سامنے آئیں گی۔