اسلام آباد میں امن مذاکرات، ٹرمپ پُرامید، اسرائیل کے حملوں میں کمی کا امکان

اسلام آباد میں امن مذاکرات، ٹرمپ پُرامید، اسرائیل کے حملوں میں کمی کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے حوالے سے خوش آئند اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ اب زیادہ دور نہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں جاری بیک ڈور سفارتی رابطے امید افزا ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ کوششیں جلد کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں خطے میں فوجی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر تبادلہ خیال ہوا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں میں کمی لانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ پیش رفت لبنان سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں حالات بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت اس وقت مذاکرات میں سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جو کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سفارتی عمل ناکام ہوا تو صورتحال دوبارہ کشیدہ اور پیچیدہ ہو سکتی ہے۔صدر کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور ہیں، جن میں ممکنہ طور پر پابندیوں میں نرمی، قیدیوں کا تبادلہ اور علاقائی تنازعات میں کمی جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی اور توانائی منڈیوں، خطے کے استحکام اور بین الاقوامی تعلقات پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔