روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی جنرل ایگور کی ہلاکت کے الزام میں ازبک شہری کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
روسی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق، اس ازبک شہری کا کہنا ہے کہ اسے یوکرینی انٹیلی جنس سروس نے بھرتی کیا تھا۔یوکرین کے مغربی اتحادیوں کو اس قتل میں ملوث قرار دیا گیا تھا، لیکن امریکا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکا اس قتل کے بارے میں پہلے سے آگاہ تھا، لیکن اس میں ملوث نہیں تھا۔روس کے ایک سینئر افسر، لیفٹیننٹ جنرل ایگور کیریلوف، جو ریڈیو ایکٹو، کیمیکل اور بائیولوجیکل ڈیفنس فورس کے سربراہ تھے، ماسکو میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ اس حملے میں ان کے ساتھ ایک ساتھی بھی مارا گیا۔