پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کل اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ کابل کا دورہ کریں گے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں اس دورے کی تفصیلات فراہم کیں۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل میں افغان عبوری وزیرِ اعظم اور افغان نائب وزیرِ اعظم برائے اقتصادی امور سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور اہم امور پر مذاکرات کرنا ہے۔دورے کے دوران، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے بھی وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔ مذاکرات میں سیکیورٹی کے مسائل، دوطرفہ تجارت، عوامی تعلقات اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے اور دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے۔اسحاق ڈار کے دورے کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے مزید مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے افق کی تلاش کے حوالے سے اہم ثابت ہو گا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران سے پاکستانی زائرین کی میتوں کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون جاری ہے۔ پاکستانی فضائیہ نے ان میتوں کو ایران سے وطن واپس پہنچایا، اور بلوچستان انتظامیہ نے میتوں کی وصولی اور ورثاء تک پہنچانے کے انتظامات کیے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، خصوصاً اس بات پر زور دیا جائے گا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید بہتری لانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔