وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور امریکا کے اہم دورے پر روانہ ہوگئے، جہاں وہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم برطانیہ میں تقریباً دو روز قیام کریں گے، جس دوران ان کی اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ برطانیہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم 19 ستمبر کو امریکا روانہ ہوں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جبکہ پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی مسائل، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل بھی اجاگر کریں گے۔وزیراعظم اپنے خطاب میں فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سمیت عالمی سطح پر امن، مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی اہمیت پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں، تاہم اسے ذرائع کی اطلاعات کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ملاقات 23 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہوسکتی ہے۔وزیراعظم کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں علاقائی و عالمی تنازعات، سفارتی کوششیں اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات اہم موضوعات میں شامل ہیں۔