نسیم درمانوی
آپ نے اپنی زندگی کاسارا سفراپنے مذکورہ بالا اور معروف عام شعر کی مثل طے کیا۔آپ یکم اکتوبر 1898ء کشمیرکے گاؤں ک ھادر پاڑا میں پیدا ہوئے۔1910ء میں آپکا خاندان ہجرت کر کے ظفروال شہر میں آبسا۔
جہاں آپ نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شعبہ وکالت کا انتخاب کیا تو شکرگڑ ھ رہائش اختیار کرلی۔بطور وکیل 1932ء میں آپ نے اس دھرتی کا ایک معروف مقدمہ (موضع سکھو چک قبرستان)کی پیروی کرتے ہوئے ڈلہوزی کی بھری عدالت میں ایک مرہٹہ ڈپٹی کمیشنر کو ان تاریخی الفاظ سے مخاطب کیا۔
" اگر آپ کی رگوں میں شوہ جی خون جوش مار رہا ہے تو میں تمہیں بتلا دینا چا ہتا ہوں کہ اورنگ زیبی حمیت کے مسلمان آج بھی زندہ ہیں۔ اگر تْم نے قو می حمایت میں غلط فیصلہ دیا تو جتنے نوجوان مارے جائیں گیجو عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوں گیان کے خون کے تْم ذمہ دار ہوگے"
فیصلہ ہوا جو ہوا مگر اس کیس کے بعد آپکی شْہرت کا ڈنکاچار سو بجنے لگا۔آپ نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جاہ بجا جلسوں اور سیاسی تقریبات میں شامل ہو کر مسلم لیگ کی تقویت کا موجب بنے۔ آپ جہاں اپنے وقت کے نامور وکیل تھے تو وہاں ایک گْمنام شاعر بھی تھے۔ آپ کے دو بیٹے صفدرکاظمی و شوکت کاظمی بیوروکریسی کے مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہے۔صفدر کاظمی چیئرمین ریونیو بورڈ لاہور،وفاقی سیکرٹری تعلیم اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر تعینات رہے۔آپ نے4مئی1989ء ،1409ھ,27 رمضان المبارک بروزجمعرات کو رحلت فرمائی۔ آپ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔۔ اب آپ کے مذکورہ بالا معروف شعر پر تبصرہ پیش خدمت ہے کہ کسطرح آپ کا یہ شعر مختلف اوقات میں مختلف معروف شعراء کرام کے نام کے ساتھ نتھی کیا جاتا رہا۔اکثریت علامہ اقبال کے ساتھ یہ شعر جوڑتی رہی۔سید صادق حسین کاظمی کا یہ شعر جس غزل میں شامل ہے آپکی یہ غزل 1918ء میں روزنامہ آفتاب میں چھپی اور آپ کی یہ غزل جس کتاب میں چھپی اسے فیروز سنز لمیٹیڈنے طبع کیا۔کتاب کا نام "سبز برگ است کتاب یکم فروری 1977ء کو چھپی۔
صادق حسین کاظمی نے 1955 میں روزنامہ "زمیندار" میں "یہ شعر میرا ہے " کے عنوان سے وضاحت فرمائی۔اور ساتھ چیلنج بھی دیا کہ اگر کوئی اسے علامہ اقبال کا شعر ثابت کر دے تو اسے پانچ سو انعام دوں گا۔ کوئی شخص بھی اسے علامہ اقبال کا شعر ثابت نہ کر سکا۔
اپریل 1960ء کو مو صوف نے "یہ شعر میرا ہے"کے عنوان سے ایک بار پھر وضاحت فرمائی اور اپنا چیلنج دوہرایا۔
۔۔۔ستمبر 1974ء ریڈیو پاکستان کے رسالے "آہنگ"میں معروف ترقی پسند شاعر و ادیب ظہیر کاشمیری نیاپنے کالم "ہماری باتیں"میں مذکورہ شعر کو ایک بار پھر علامہ اقبال کے ساتھ منسوب کیا تو نومبر 1974ء میں جناب ناصر زیدی صاحب نے جو اس وقت "ادب لطیف"لاہور کے ایڈیٹر تھے،وضاحت کی کہ مذکورہ شعر علامہ صاحب کا نہیں بلکہ صادق حسین ایڈووکیٹ کا ہے۔اسی دوران میں جناب مہر شبیر سرگانہ (ملتان)نے روزنامہ نوائے وقت لاہور میں بعنوان "یہ شعر کس کا ہے"مکتوبات لکھ کر قارئین کو تحقیق کی دعوت دی لیکن کوئی بھی علامہ کا شعر ثابت نہ کر سکا۔
۔۔۔27 جون 1976ء کو روزنامہ نوائے وقت کے ادبی ایڈیشن میں جناب مرزا ادیب نے اپنے کالم "ازکار و افکار"میں یہ شعر اپنے خالق کی تلاش میں ہے کے عنوان سے مذکورہ بالا شعر کے بارے میں تحریر فرمایا کہ اسے اپنے خالق کی تلاش ہے۔اور اس بارے تفصیلاً تحریر بھی کیا۔
۔۔۔2004 ء میں روزنامہ" نوائے وقت کے کالم نگار جناب کرنل اکرم اللہ نے اپنے کالم میں اک بار پھر یہ شعر علامہ اقبال کے ساتھ منسوب کر دیا تو دوسرے تیسرے روز اسی اخبار "نوائے وقت" کیایک دوسر ے کالم نویس جناب امیر نواز نیازی نے اپنے کالم "گر تو برا نہ مانے"میں اس شعر کی دوبارہ وضاحت کی۔اور کہا کہ "خْدا راہ اب اس شعر کی جان خلاصی کردو"کہ اس شعر پر متعدد مرتہ لے دے ہو چکی ہے۔حد تو یہ ہے بعدازاں نامور سکالر اور اقبالیات کے ماہر مولانا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم بھی یہی غلطی دوہرا گے تو بعد میں اخبار میں پھر وضاحت آئی۔یہ جو شعر کو سمجھنے کی غلط فہمی کا سلسلہ صادق کاظمی کی حیاتی میں ہی شروع ہو گیا تھا یہ اب تک بھی چلا آرہاہے۔اور اکثروبیشتر لوگ علامہ اقبال کیساتھ نتھی کر دیتے ہیں۔ الحاصل ، اس پْر اسرار اور معروف شعر کے خالق جناب صادق حسین کاظمی کی ایک مختصر بیاض "برگ سبز" کے عنوان سے 1977ء میں فیروزسنز نے شائع کی۔اور اس کتاب کا انتساب بھی صادق صاحب نیان اصحاب کے نام کیا جھنوں نے یہ شعر علامہ اقبال کے ساتھ منسوب کیا۔اس چھوٹی سی کتاب کے مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ کاظمی صاحب بھی اس وقت کے دیگر مسلم شعراء کی طرح اپنی قوم میں اتحاد و بیداری کے خواہشمند تھے۔ بیشک علامہ اقبال ، مولانا ظفر علی خاں اور سید صادق حسین کاظمی کے کلام کا زیادہ تر حصہ قوم کے اتحادو بیداری پر مشتمل ہے۔علاوہ ازیں ان اصحاب کا زمانہ شاعری بھی کم و بیش ایک ہی ہے۔لہذا انکے خیالات میں بھی بہت حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے۔چنانچہ ان شعراء کرام کے بعض اشعار میں ایک کم علم شخص کو فرق واضع کرنا بہت حد تک دشوار ہے‘مزے کی بات یہ ہے کہ مذکرہ شعراء کرام ایک ہی مردم خیز خطے سے تعلق رکھتے ہیں(سیالکوٹ/نارووال)اس خطے کی کوکھ سے متعدد نامور قومی و بین الاقوامی علمی ،ادبی اور مذہبی شخصیحات نے جنم لیا ہے۔مثلاً حضرت ملا عبدالحکیم سیالکوٹی ، مولانا ابراہیم سیالکوٹی،پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پور سیداں، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، مولانا ظفر علی خاں،فیض احمد فیض،سر شہاب الدین ،صادق حسین کاظمی، مس خدیجہ فیروز دین ،وارث خاں سرہندی،(موئلف اردو لغت)صوفی شاعر سید ہاشم علی شاہ،علامہ احسان الہی ظہیر اور زبوروں کا منظوم پنجابی ترجمہ کرنے والے پادری امام دین( المعروف اے ڈی شہباز )کے علاوہ متعدد نام شامل ہیں۔
اب ملاحظہ فرمائیں سید صادق حسین کاظمی ایڈووکیٹ کی غزل
تو سمجھتا ہے حوادث ہیں سستانے کے لیے
یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
کامیابی کی ہوا کرتی ہے ناکامی دلیل
رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کے لیے
نیم جاں ہے کس لئے حال خلافت دیکھ کر
ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کو بچانے کے لیے
چین سے رہنینہ دے انکو نہ خود آرام کر
فکر میں جو ہیں"خلافت" کومٹانے کے لیے
استقامت. سے اٹھا وہ نالہ آہ و فغاں
جو کہ کافی ہو در لنڈن ہلانے کے لیے
آتش نمرود بھڑکی ہے تو پرواہ نہیں
وقت ہے شان ابراہیمی دکھانے کے لیے
مانگنا کیسا ؟ کہ تو خود مالک و مختار ہے
ہاتھ پھیلاتا ہے کیوں اپنے خزانے کے لیے
دست و پا رکھتے ہیں،بیکار کیوں بیٹھیرہیں
ہم اْٹھیں گے اپنی قسمت کو بنانے کے لیے