پہلے ایمرجنسی ڈکلیئر میں دیر ، پھرپہلے 72گھنٹوں میں عالمی امداد کی اپیل میں تاخیر کی
2023 سیلاب کا حکومت سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں: ممبر سینٹرل ایگزیکٹو پی پی
لاہور(خصوصی رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر سینٹرل ایگزیکٹو چودھری منظور احمد نے کہا ہے کہ حکومت عالمی اداروں سے اپیل اور متاثرین کو پیسے دینے میں تاخیر کر رھی ہے،ہم 2023 کے سیلاب کا حکومت سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی ،فیصل میر،رانا جواد،علامہ یوسف اعوان، ڈاکٹر خیام حفیظ،ڈاکٹر خالد جاوید جان،چودھری لیاقت کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری منظور نے کہا کہ حکومت پر چیز میں دیر کر رھی ہے۔پہلے ایمرجنسی ڈکلیئر کرنے میں دیر کی پھرپہلے 72گھنٹوں میں عالمی امداد کی اپیل میں تاخیر کر دی اوپر سے وزیر اعلی مریم نواز نے بھی کہہ دیا کہ ہم اپیل نہیں کرینگے۔چودھری منظور نے کہا کہ فصلیں چار سے پانچ فٹ ریت کے نیچے دھنس چکی ہیں،ستلج میں تاریخ کا پہلا سیلاب ہے جو ساڑھے 3 لاکھ کیوسک فٹ سے زائد تین مرتبہ گیا ہے،گھر بچینہ زمینیں۔تباہی ہی تباہی ہے۔چودھری منظور نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو بی آئی ایس پی سے نقد امداد دیں،کوئی عزت دار امداد لینے لائن میں نہیں لگے گا،متاثرین کی جمع بندی،گرداوری کے ذریعے مدد کی جائے،کسانوں کو فصلوں کا معاوضہ دینا ہے۔جیسے بی بی نے اپنے دور میں کیا تھا۔چودھری منظور نے کہا کہ حکومت نے فوڈ سیکورٹی کے ادارے بیچنے شروع کر دئیے ہیں۔حکومت زرعی بنک،پاسکو،یوٹیلٹی سٹورز بند کر رھی ہیحالانکہ یہ سٹور سیلاب میں کام دیتے تھے۔تخمینے لگتے رہیں گے۔کاسٹ آف پروڈکشن نکال کر بھارت سے موازنہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں متاثرین سیلاب کی جلد از جلد امداد کیلئے قرار دادیں جمع کرا دی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ لٹنے والوں کو آج نہیں تو کب پوچھیں گے۔پیپلز پارٹی کا مستقبل میں کسانوں کا کنونشن بلانے کا ارادہ ہے، پیپلز پارٹی سیلاب کی صورتحال تک صرف تجاویز دیگی۔پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی نے کہا کہ ایک ماہ کے بجلی کے بلوں کی معافی مذاق ہے،کم از کم 6ماہ کے بل معاف کریں۔ہمیں حکومت کے آٹے،بھیک یا مدد کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی بات کی مخالفت کرنی ہے مگر ہم آپکے پیچھے کھڑے ہیں مگر ہماری بات تو سنیں۔حکومت کام پر توجہ دے۔ہم کمی کوتاہی بتائینگے۔پی پی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ پیپلز پارٹی تقسیم اور انتشار نہیں پھیلانا چاہتی،ہم کسی کے جرم کی سزا پاکستان میں بھگت رھے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ کو پانی سے نکالنا ہی ریسکیو نہیں ہوتا،سب سے
زیادہ نقصان لائیو سٹاک کا ہوتا ہے۔اپنی زندگی کا خوفناک ترین سیلاب دیکھا ہے۔قدرتی آفت کو روکا نہیں جا سکتا مگر پنجاب میں یہ مس مینج ہوا ہے۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت سیلاب مینج کرنے میں پیچھے اور سندھ حکومت آگے رھی ہے اور خوش قسمتی سے سندھ میں ماضی کی نسبت کم نقصان بہتر مینجمنٹ سے ہوا ہے۔کیونکہ انہوں نے اپنی ابی گزر گاہوں کو تجاوزات سے پاک کر کے کھلا کیا ہے۔سندھ حکومت نے 21لاکھ گھر سیلاب زدگان کو دئیے ہیں۔حسن۔مرتضی نے ضلع جھنگ میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گنے،مکئی اور پیڈی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں،لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔سینکڑوں ایکڑ والوں کی ستر فیصد فصلیں زیر آب ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک بوری کے پیسے نہیں دے رھے مگر تعریف سننا چاہتے ہیں،عوام کو پہلے ہی تحفظات ہیں۔اپکیحمایتی ہیں۔سمجھنے کی کوشش کریں۔حکومت کاشتکار کی بجائے بابووں کی بات سنتی ہے۔سیلاب کیوجہ سے پاک بھارت نقصانات کے سوال پر حسن مرتضی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں زرعی اجناس اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بہت فرق ہے،بھارت کے 20ہزار ہمارے 60ہزار بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ کاشتکار بھیک نہیں چاہتے مگر کسانوں کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے حکومت کو ساتھ کھڑا ہونا پڑیگا،انہوں نے مذید کہا کہ حکومت نے دیر کر دی ہے۔عوام کیلئے جو فوری ہو سکتا تھا نہیں کیا۔پاکستان جیسے ملک میں ریاست کا کردار رہنا چاہیے۔متاثرین کے اصل مسائل اب شروع ہو رھے ہیں۔