لاہور(نیٹ نیوز)اوپر موجود تصویر کو دیکھیں جو کہ بنیادی طور پر بچوں سے پوچھی جانے والی پہیلی ہے مگر یہ متعدد بڑوں کا سر بھی چکرا دیتی ہے۔ آپ کو بس یہ بتانا ہے کہ پیلے رنگ کی یہ بس کس طرح سفر کر رہی ہے، دائیں یا بائیں۔پہلی نظر میں تو اس کا جواب دینا ناممکن لگتا ہے کہ کیونکہ اس کا فرنٹ یا بیک حصہ واضح نہیں۔مگر اس کا جواب موجود ہے اور درحقیقت اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کس ملک میں موجود ہیں۔یعنی اگر آپ پاکستان یا برطانیہ میں موجود ہیں تو یہ بس بائیں سے دائیں جانب جا رہی ہوگی۔امریکا میں اس کے برعکس بس دائیں سے بائیں جانب جائے گی۔یہ پہیلی نیشنل جیوگرافک نے اپنی ایک ٹی وی سیریز کے لیے بنائی تھی۔اس کے مطابق 10 سال سے کم عمر 80 فیصد بچے اس کا جواب فوری طور پر دے دیتے ہیں، اب چاہے غلط ہو یا درست۔مگر بالغ افراد کو جواب کا اندازہ لگانے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے اور بڑے مختلف انداز سے فیصلہ کرتے ہیں۔بچے پہلے تصویری اشارے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اکثر غلط جواب دیتے ہیں مگر دیتے برق رفتاری سے ہیں، اس کے مقابلے میں بالغ افراد تمام تر تفصیلات کا تجزیہ کرکے جواب دینا پسند کرتے ہیں۔